تہران: مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کا توازن بدلنے والا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے آپریشن ’وعدہ صادق-4‘ کی 87 ویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے خطے میں موجود امریکی اور اسرائیلی کمانڈ سینٹرز کو براہِ راست نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، یہ محض اتفاقی حملے نہیں تھے بلکہ طویل انٹیلیجنس اور آپریشنل تیاریوں کا نتیجہ تھے۔ امریکی اور صہیونی کمانڈرز کے چار کلیدی مراکز اور خفیہ فوجی تنصیبات کو چار مختلف مراحل میں میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔
دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان مراکز کی تباہی کے وقت وہاں 200 سے زائد امریکی کمانڈرز اور اعلیٰ افسران موجود تھے، جو ان دفاتر اور رہائش گاہوں کے ملبے تلے دب گئے۔
رپورٹ میں ایک انتہائی حساس آپریشن کا ذکر کیا گیا ہے جس کے مطابق بحرین میں موجود امریکی ففتھ فلیٹ (5th Fleet) کے کمانڈرز کی ایک خفیہ رہائش گاہ کو ڈرونز کے ذریعے ہٹ کیا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ ہے کہ حملے کے وقت رہائش گاہ میں امریکی فوجی افسران کا ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس جاری تھا، جسے مکمل طور پر ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی مراکز کو جدید ترین ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا جبکہ امریکی اڈوں کے خلاف بیلسٹک میزائلوں کا استعمال کیا گیا۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان حملوں میں اتنی بڑی تعداد میں امریکی افسران نشانہ بنے ہیں، تو یہ خطے میں امریکی موجودگی کے لیے اب تک کا سب سے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔




