استنبول:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ترکیہ میں اہم ملاقات ہوئی، جس میں امریکا ترکیہ تعلقات، تجارت، دفاعی تعاون، ایران کے معاملے اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے ترکیہ کی میزبانی اور شاندار استقبال پر صدر اردوان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ امریکا کا اہم اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان ایک عظیم رہنما ہیں جن کا دنیا بھر میں احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے ساتھ تجارت، فوج اور دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے پر بات ہوگی۔
ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس معاملے پر ترک صدر سے تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ ایران کے حالات کو بہتر انداز میں سمجھتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔
ٹرمپ نے ایران کی جوہری صلاحیت سے متعلق دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اسے ختم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کے دوران امریکا کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں تھی۔
دفاعی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایف-35 طیاروں کے حوالے سے اہم فیصلے کیے جائیں گے۔ انہوں نے ترکیہ کی فوجی طاقت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکیہ ایک مضبوط ملک ہے۔
نیٹو کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ اتحاد نے ماضی میں انہیں مایوس کیا، تاہم امریکا نے ہمیشہ یورپ کے تحفظ میں کردار ادا کیا ہے۔
روس اور یوکرین جنگ کے بارے میں امریکی صدر نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد امن معاہدہ ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جنگوں کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔




