اسلام آباد: وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات کے تناظر میں صوبائی حکومت کو اعتماد میں لینے اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کی مسلسل کوشش کی گئی، تاہم مذاکرات کے ذریعے معاملات حل نہیں ہو سکے۔
وفاقی وزراء کے ہمراہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت گزشتہ ایک ماہ سے خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ رابطے میں تھی تاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام فریقوں کو متحد کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے معاملات طے کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔
وزیرِ داخلہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقات اور لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکرات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جبکہ مجوزہ مسودے میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں، تاہم ان کے بقول بات چیت نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکی۔
محسن نقوی نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں جانی نقصان ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی تھی، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ وفاق اور صوبوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہی ہیں اور اس معاملے پر تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ وزیرِ داخلہ نے خارجہ پالیسی کو قومی معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی صوبہ اپنی الگ خارجہ پالیسی اختیار نہیں کر سکتا۔
اس موقع پر وفاقی وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ آئینی طریقۂ کار کے مطابق کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا اور امن و امان کی صورتحال تشویش ناک ہوتی جا رہی تھی۔
اعظم نذیر تارڑ نے خیبرپختونخوا کی پی ٹی آئی حکومت پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
وفاقی وزراء نے دہشت گردی کے خاتمے، امن و امان کی بحالی اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ نیوز کانفرنس میں بیان کیے گئے حکومتی مؤقف اور الزامات پر صوبائی حکومت اور پی ٹی آئی کا ردعمل بھی اس معاملے کا اہم پہلو ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور صوبائی حکومت پر دہشت گردوں سے مبینہ روابط کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا کہ پی ٹی آئی کے تانے بانے دہشت گردوں سے جا ملتے ہیں اور خیبرپختونخوا حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کر رہی۔
وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق صوبے کے کئی اضلاع میں تھانوں تک طالبان کے کنٹرول میں ہونے کے دعوے سامنے آئے ہیں، جبکہ خیبرپختونخوا کے انتظامی حالات تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے تھے۔
عطا تارڑ نے مزید الزام عائد کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے دہشت گردوں کے ساتھ گہرے تعلقات ہیں اور پی ٹی آئی دہشت گردی کے خاتمے کے معاملے پر غیر سنجیدہ ہے۔




