اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، صوبے کی ترقی، امن و امان اور عوامی خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ مسلم لیگ (ن) صوبے کے عوام کی خدمت اور ترقی کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔
خیبرپختونخوا کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ بطور وزیراعظم پاکستان اور قائد نواز شریف کے کارکن کی حیثیت سے مخاطب ہیں۔ خیبرپختونخوا وطن عزیز کا خوبصورت صوبہ ہے اور یہاں کے عوام غیور، دلیر اور باوقار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے خیبرپختونخوا میں جمہوری روایات کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ 2013 کے انتخابات کے بعد نواز شریف نے صوبے میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کا موقع دیا، جو ان کی جمہوری سوچ اور فراخدلی کا واضح اظہار تھا۔
وزیراعظم نے صوبے کی گزشتہ 13 سالہ حکومتی کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں بلند و بانگ دعوے تو کیے گئے، لیکن عوامی خدمت کے بجائے سیاسی نعروں اور تقسیم در تقسیم پر توجہ دی گئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ گزشتہ 13 سال میں خیبرپختونخوا میں کتنی یونیورسٹیاں اور اسپتال تعمیر کیے گئے؟ پشاور سے کوہستان، ہزارہ اور جنوبی اضلاع تک عوامی مسائل عدم توجہی کا شکار رہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام، پولیس، فوج اور سیاسی رہنماؤں نے عظیم قربانیاں پیش کیں۔ پاکستان نے اس جنگ میں بھاری جانی اور معاشی نقصان اٹھایا۔ نواز شریف کے دور میں پوری قوم اور قومی اداروں نے متحد ہوکر دہشتگردی کے خاتمے کے لیے جدوجہد کی۔
انہوں نے کہا کہ آرمی پبلک اسکول پشاور کا سانحہ ملکی تاریخ کا انتہائی دردناک واقعہ ہے۔ معصوم بچوں کی شہادت کا دکھ آج بھی پوری قوم کے دلوں میں تازہ ہے اور خیبرپختونخوا کے عوام کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ملک میں لانگ مارچ اور دھرنوں کی سیاست کی گئی۔ 2014 کے دھرنے کے باعث چین کے صدر کا دورہ پاکستان مؤخر ہوا، تاہم 2015 میں صدر شی جن پنگ کے دورہ پاکستان کے موقع پر اہم معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی شبانہ روز محنت سے ملک میں 20، 20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہوا۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2019 اور 2020 میں افغانستان سے دہشتگردوں کو واپس لاکر بسایا گیا، جس کے باعث دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملک کو بھاری نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کی دعوت دی گئی، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں خیبرپختونخوا کے لیے ایک فیصد اضافی وسائل مختص کرنے پر اتفاق ہوا تھا، جس کے تحت صوبے کو اب تک 800 ارب روپے مل چکے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ان وسائل سے کتنے سیف سٹی منصوبے قائم کیے گئے اور محکمہ انسداد دہشتگردی کو کتنا مضبوط بنایا گیا؟
انہوں نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس کی 5 ہزار خالی آسامیوں پر بھرتیاں نہیں کی گئیں۔ صوبے میں دستیاب وسائل پولیس کو جدید اسلحہ، تربیت اور ضروری سہولیات فراہم کرنے پر خرچ ہونے چاہئیں تھے۔
ملکی معیشت کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت نے مل کر شبانہ روز محنت کی۔ عالمی حالات اور خلیج میں جنگ کے باعث توانائی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، تاہم حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے فیول سبسڈی اسکیم شروع کی۔
انہوں نے بتایا کہ فیول سبسڈی اسکیم سے ایک کروڑ 30 لاکھ افراد مستفید ہوچکے ہیں، جبکہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت نے 75 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غریب آدمی کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اہم ترجیح ہے اور ملکی معیشت کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جارہے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر وزیراعظم نے کہا کہ ناگزیر حالات کے پیش نظر یہ اقدامات کیے گئے۔ معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی اور پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی کمیٹیوں نے 48 گھنٹے تک مذاکرات کیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کو بچانے کے لیے فیصلہ کرنا ضروری تھا۔ اگر بروقت فیصلہ نہ کیا جاتا تو خیبرپختونخوا کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کی ترقی، خوشحالی، امن اور عوامی خدمت کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔




