واشنگٹن:امریکہ میں 3 نومبر 2026 کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات ملک کی سیاسی صورتحال کے لیے اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ انتخابات میں کانگریس کے ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی، جبکہ 36 ریاستوں میں گورنروں کے انتخاب کے لیے بھی مقابلے ہوں گے۔
وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے درمیان کانگریس میں اکثریت حاصل کرنے کے لیے مقابلہ ہوگا۔ ان انتخابات کے نتائج آئندہ دو برس کے دوران صدر ٹرمپ کی حکومتی پالیسیوں، قانون سازی اور کانگریس کے ساتھ تعلقات پر اثر انداز ہوں گے۔
امریکی نظامِ حکومت کے تحت ایوانِ نمائندگان کے ارکان دو سال جبکہ سینیٹرز چھ سال کی مدت کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں قانون سازی کی تجاویز پیش کی جاتی ہیں اور ان پر بحث ہوتی ہے، جبکہ سینیٹ بھی قانون سازی کی منظوری کے عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
کیلیفورنیا، فلوریڈا، جارجیا اور مشی گن سمیت متعدد ریاستوں میں گورنروں کے انتخابات بھی سیاسی توجہ کا مرکز ہیں۔
انتخابی مہم کے دوران امریکی معیشت، مہنگائی، ایندھن، اشیائے خور و نوش، رہائش اور صحت کی سہولیات کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اہم موضوعات بنے ہوئے ہیں۔
ڈیموکریٹک پارٹی کا مؤقف ہے کہ صدر ٹرمپ کی تجارتی محصولات (ٹیرف) سے متعلق پالیسیوں کے باعث امریکی صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے، جبکہ ریپبلکن پارٹی سرحدی نگرانی سخت کرنے اور غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیوں کو اپنی حکومتی پالیسی کی کامیابی قرار دیتی ہے۔
مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی ٹیکنالوجی کے لیے قانونی ضابطے متعارف کرانے کا معاملہ بھی انتخابی بحث میں شامل ہے۔ دونوں بڑی جماعتوں کے رہنما اس شعبے میں ضابطہ سازی کی ضرورت پر بات کر رہے ہیں، تاہم اس حوالے سے صدر ٹرمپ کے مؤقف اور ٹیکنالوجی کی ترقی کو محدود کرنے کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں۔
امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت کو قانون سازی اور حکومتی معاملات میں اہم کردار حاصل ہوتا ہے۔
اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوانِ نمائندگان یا سینیٹ میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو صدر ٹرمپ کی قانون سازی کی تجاویز، تقرریوں اور حکومتی فیصلوں پر کانگریس کی نگرانی کا کردار بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب ریپبلکن پارٹی کی اکثریت برقرار رہنے سے صدر کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے موجودہ جماعتی حمایت حاصل رہے گی۔
واضح رہے کہ وسط مدتی انتخابات میں امریکی صدر کا انتخاب نہیں ہوتا بلکہ کانگریس کے ارکان، ریاستی گورنروں اور دیگر عہدیداروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں اگلے صدارتی انتخابات 2028 میں متوقع ہیں۔




