بین الاقوامی

نطنز جوہری تنصیب پر اسرائیلی حملے کے براہ راست اثرات، آئی اے ای اے کا انکشاف

عالمی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے ایران کی نطنز جوہری تنصیب کے زیرِ زمین حصے کو براہ راست متاثر کر چکے ہیں۔ ایجنسی کے مطابق، سیٹلائٹ تصاویر کے مسلسل تجزیے سے ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جو اس تنصیب کے افزودگی ہالز پر حملے کی تصدیق کرتے ہیں۔

یہ بیان سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ حملے کے بعد حاصل شدہ تصاویر سے تنصیب کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان کا اندازہ لگایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 12 جون کو آئی اے ای اے نے 20 برسوں میں پہلی بار ایران کے خلاف قواعد کی خلاف ورزی پر قرارداد منظور کی تھی۔ اس قرارداد کے حق میں 19، مخالفت میں 3 ووٹ آئے جبکہ 11 ارکان نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

ادھر ایران نے جوابی اقدام کے طور پر اپنی فوجی مشقیں قبل از وقت شروع کر دی ہیں تاکہ دشمن کی کسی بھی نقل و حرکت پر فوری ردعمل دیا جا سکے۔ ایران نے اس حملے کو اپنی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی اداروں سے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے اور جوہری معاہدے کی بحالی کے امکانات کمزور ہو رہے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button