اسلام آباد: وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سینیٹر اسحاق ڈار کا شوگر ایڈوائزری بورڈ سے کوئی تعلق نہیں.
ان کا کہنا تھا کہ کچھ حلقے بغیر تحقیق کے بیانات دے دیتے ہیں، حالانکہ سینیٹ میں اس بارے میں ایک باقاعدہ سوال پوچھا گیا تھا جس پر متعلقہ محکمے نے تحریری جواب جمع کرایا۔ وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ پارلیمنٹ کے فلور پر کسی بھی قسم کی غلط بیانی کی گنجائش نہیں ہوتی۔
عطاء تارڑ نے کہا کہ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جنہوں نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے قانون سازی کر رکھی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں "کرپٹو کونسل” قائم کی جا چکی ہے اور اس سے متعلق قوانین اور قواعد و ضوابط بھی وضع کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کرپٹو ایک ابھرتا ہوا سیکٹر ہے اور بغیر تحقیق تنقید کرنا دراصل دشمن کے ایجنڈے کی معاونت کے مترادف ہے۔
عطاء تارڑ نے سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ان کا بیانیہ وہی ہے جو بھارت اپنا رہا ہے، جو کہ قابل افسوس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب بحالی کی طرف گامزن ہے اور اس میں روز بروز بہتری آ رہی ہے۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر وزیر اطلاعات نے بتایا کہ حکومت ان کی رہائی کے لیے مسلسل سفارتی اور قانونی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، اور اس معاملے کو انسانی بنیادوں پر حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
0 13 1 minute read



