انگلینڈ کے خلاف لندن ٹیسٹ میں شکست اور سیریز میں دو ایک کے خسارے کے بعد بھارتی بیٹنگ لائن، خاص طور پر چوتھے نمبر پر، واضح طور پر کمزور دکھائی دی۔ اسی پس منظر میں سابق آل راؤنڈر اور ورلڈ کپ چیمپئن مدن لال نے سابق کپتان ویرات کوہلی سے ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کی اپیل کی ہے۔
ویرات کوہلی، جو ایک ماہ قبل انگلینڈ کے خلاف سیریز سے قبل ٹیسٹ کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے تھے، طویل عرصے تک بھارتی بیٹنگ لائن کا مرکزی ستون رہے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد ٹیم کو خاص طور پر چوتھے نمبر پر تسلسل اور تجربے کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ مدن لال نے ایک بیان میں کہا، "ویرات کو اپنی ریٹائرمنٹ واپس لے لینی چاہیے، اس میں کوئی شرمندگی نہیں۔ ان کا جذبہ اور تجربہ بھارتی ٹیم کے لیے ناقابلِ فراموش ہے۔ میری دلی خواہش ہے کہ وہ اگلی ٹیسٹ سیریز میں ایک بار پھر بھارتی شرٹ میں نظر آئیں۔”
مدن لال نے مزید کہا کہ ویرات کوہلی اب بھی دو سال آرام سے کھیل سکتے ہیں اور ٹیم کو درکار قیادت اور مضبوط بیٹنگ کا سہارا دے سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ویرات کوہلی نے اپنے شاندار کیریئر میں 31 سنچریاں اور 31 نصف سنچریاں اسکور کیں اور مجموعی طور پر 9,230 رنز بنائے۔ وہ بھارت کے چوتھے کامیاب ترین ٹیسٹ بلے باز ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں ٹیم میں جو خلا پیدا ہوا ہے، وہ واضح دکھائی دے رہا ہے۔
اگرچہ نوجوان کپتان شبمن گل نے شاندار کارکردگی دکھائی اور لیڈز ٹیسٹ میں 147، ایجبیسٹن میں 269 اور 161 رنز کی اننگز کھیل کر سیریز میں مجموعی طور پر 607 رنز بنائے، تاہم تیسرے ٹیسٹ میں وہ صرف 16 اور 6 رنز پر آؤٹ ہو گئے، جس سے ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
کرکٹ ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کی اکثریت اس رائے پر متفق دکھائی دیتی ہے کہ اگر ویرات کوہلی واپس آ جاتے ہیں تو ٹیم ان کے تجربے، ذہنی پختگی سے مستفید ہو سکتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ویرات کوہلی ایک اور واپسی کی راہ اپنائیں گے یا اپنے فیصلے پر قائم رہیں گے؟ مداحوں کو امید ہے کہ وہ ایک بار پھر بھارتی ٹیم کو ٹیسٹ میدان میں لیڈ کرتے نظر آئیں گے۔
0 38 1 minute read




