تحریر: مصطفے صفدر بیگ
سندھ سے گزرتی عظیم سندھو ندی کے کناروں پر پھیلا ہوا کچے کا علاقہ جہاں دریا کی موجیں صدیوں کی کہانیاں سناتی ہیں، مگر ان کہانیوں کا حاصل خوشی نہیں بلکہ دکھ ہے۔ برسوں سے یہ زرخیز دھرتی ڈاکوؤں کے عفریت کی یرغمال بنی ہوئی ہے۔ یہ محض بندوق بردار مجرموں کا کوئی چھوٹا سا گروہ نہیں بلکہ ایک ایسا سفاک نظام ہے جس کی جڑیں غربت، محرومی، ناانصافی اور ریاستی بے نیازی کی سنگلاخ زمین میں پیوست ہیں۔ آج سندھ حکومت کے اعلان کردہ "تیز اور بے رحم آپریشن” کی صدائے بازگشت نے ایک مرتبہ پھر اس ناسور کو زبانِ حال دی ہے۔ وزیر اعلیٰ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس، نئی کمیٹیوں کا قیام، پنجاب حکومت سے تعاون کی یقین دہانیاں، ترقیاتی منصوبوں کی نوید اور جدید ٹیکنالوجی کا سہارا ، یہ سب یقیناً خوش آئند ہیں لیکن ایک سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا یہ سب پہلی بار ہو رہا ہے؟ کیا ماضی میں ایسے ہی بلند بانگ اعلانات نہیں ہوئے؟ پھر آج بھی وہی ڈاکو، وہی علاقہ اور وہی پُرانی کہانی کیوں دہرائے جارہی ہے؟
اس سوال کا جواب محض تاریخ کے صفحات میں نہیں ہے بلکہ زمینی حقائق کے اندر دفن ہے۔
کچے کے ڈاکوؤں کا خاتمہ کیوں ممکن نہ ہو سکا؟ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم اس مسئلے کو ہمیشہ محض ایک فوجداری یا امن و امان کے چیلنج کے طور پر دیکھتے رہے حالانکہ یہ ایک پیچیدہ سماجی و معاشی المیہ ہے، ایک ایسا ناسور جس کی جڑیں تہہ در تہہ پھیلی ہوئی ہیں۔ اس خطے کی جغرافیائی تنہائی اور صدیوں سے جاری محرومی نے یہاں کے باسیوں کو ریاست سے دور اور غیر ریاستی عناصر کے قریب کر رکھا ہے۔ دریائی بستیاں جہاں کبھی کشتیوں کے پتوار پانی کی لہروں سے ہم کلام ہوتے اور مٹی کی خوشبو ہوا سے باتیں کرتی تھی، آج وہاں بنیادی سہولیات تک ایک خواب کی مانند ہیں۔ سڑکیں، اسکول، اسپتال اور صاف پانی ، یہ سب نعمتیں اب بھی اس علاقے کے مکینوں کے لیے گویا آسمانی تحفے سے کم نہیں۔ جب ریاست کی دسترس محض نقشے تک محدود رہ جائے تو زمین پر طاقت کے توازن کا ترازو ڈاکوؤں کے ہاتھ آ جاتا ہے۔ یہ عناصر مقامی آبادی کو کبھی جبر اور کبھی لالچ سے اپنا اسیر بنا لیتے ہیں اور رفتہ رفتہ خود کو ایک متبادل "حاکم” کے طور پر منوا لیتے ہیں۔
اس المیے کی دوسری بڑی جہت قبائلی اور جاگیردارانہ نظام کا وہ فولادی حصار ہے جو ان جرائم پیشہ گروہوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ کچے کا معاشرہ جاگیرداری رسوم و رواج کی زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے، جہاں خون کے بدلے خون کا قانون نسل در نسل چلتا ہے۔ بڑے سردار، جاگیردار یا سیاسی شخصیات اپنے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے انہی ڈاکوؤں کا سہارا لیتے ہیں۔ یوں جرم اور طاقت کا گٹھ جوڑ ایک ایسی مضبوط دیوار بن جاتا ہے جس کے سامنے پولیس اور رینجرز کی کارروائیاں ریت کے گھروندے ثابت ہوتی ہیں۔ جب ریاستی آپریشن کا رخ ان بااثر حلقوں کی طرف مڑتا ہے تو دیواروں کے پیچھے چھپے ہاتھ متحرک ہو جاتے ہیں، شواہد غائب ہوجاتے ہیں، گواہ خاموش کرا دیے جاتے ہیں اور مقدمات کاغذوں کی گرد میں دفن ہو جاتے ہیں۔
تیسری وجہ معاشی زبوں حالی ہے۔ وہ نوجوان جس کے پاس تعلیم کی روشنی نہ ہو، روزگار کا وسیلہ نہ ہو اور ترقی کا دروازہ اس پر بند ہو تو اس کے لیے بندوق کا راستہ سب سے آسان اور پرکشش لگنے لگتا ہے۔ اغوا برائے تاوان یہاں کے کئی خاندانوں کا گویا موروثی پیشہ بن چکا ہے۔ یہ ایسا زہر ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہو رہا ہے۔ جب تک نوجوانوں کو ہنر اور عزت کے ساتھ روزی کا راستہ نہیں دکھایا جائے گا، اس زہر کا تریاق ممکن نہیں۔
چوتھی بڑی وجہ ہماری حکمتِ عملی میں وہی پرانا ردعمل (ری ایکشن) کا رویہ ہے۔ ہم ہمیشہ حادثے کے بعد جاگتے ہیں، پہلے سے حالات کا سدباب نہیں کرتے۔ آپریشن کے لیے جدید اسلحہ، بکتر بند گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر ضرور فراہم کیے جاتے ہیں مگر انٹیلی جنس کے میدان میں بنیادی کام ہمیشہ ادھورا رہتا ہے۔ ہتھیار اس وقت کارگر ہوتے ہیں جب مقامی آبادی آپ پر اعتماد کرے مگر یہاں لوگ ریاست سے شاکی اور ڈاکوؤں سے خوفزدہ ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے زبان کھولی تو ان کی حفاظت کوئی نہیں کرے گا۔ اس خوف اور بداعتمادی کو ختم کیے بغیر کوئی بھی آپریشن محض ایک عارضی تماشا اور ایک مہنگا مگر بے اثر شوپیس ہی رہے گا۔
یوں لگتا ہے جیسے دریا کے بیچوں بیچ کھڑے اس خطے کے باسیوں کی آواز برسوں سے پانی کے شور میں دب چکی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس شور میں سننا بھی چاہتے ہیں؟ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ جب ریاست کی گود خالی رہ جائے تو وہاں جرم اپنی نرسری کیوں کھولتا ہے؟ جب ماں کا سایہ نہ ہو تو بچہ پرایا دروازہ کیوں کھٹکھٹاتا ہے؟ یہی کچے کی کہانی ہے جو ریاستی غفلت کی کہانی، محرومی کے اندھیروں کی کہانی اور اس خواب کی کہانی ہے جو ہر بار جاگتے ہی ٹوٹ جاتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس اندوہناک سلسلے کا خاتمہ کیسے ممکن ہے؟ یہ سوال کسی ایک حکم نامے یا کسی سرکاری نوٹیفکیشن سے حل ہونے والا نہیں ہے بلکہ اس کا جواب ایک ایسی ہمہ جہت اور دیرپا حکمت عملی میں پنہاں ہے جو محض الفاظ کی جادوگری نہ ہو بلکہ عمل کی مضبوط دھڑکنوں سے جڑی ہو۔
سب سے پہلا اور بنیادی قدم ریاست کی موجودگی کو محض ایک علامتی تصور سے نکال کر ایک زندہ اور کارگر حقیقت بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے جن ترقیاتی وعدوں کا تذکرہ کیا ہے یعنی پختہ سڑکوں کا جال، تعلیم کے قندیل افروز ادارے اور صحت کے مسیحائی مراکز تو یہ سب محض منصوبے نہیں بلکہ اس بوجھل اندھیروں میں روشنی کے چراغ ضرور ہیں مگر ان چراغوں کو صرف کاغذ پر نہیں بلکہ زمین پر جلنا ہوگا تاکہ مقامی آبادی کو پہلی مرتبہ یہ یقین نصیب ہو کہ ریاست محض اقتدار کے ایوانوں میں براجمان ایک نام نہیں بلکہ ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والا ایک مہربان ہاتھ بھی ہے۔
دوسرا اور نہایت اہم قدم قانون نافذ کرنے والے اداروں میں بنیادی سطح پر اصلاحات ہے۔ یہ اصلاحات محض کاغذی کمیٹیوں کی شکل میں نہیں بلکہ حقیقی عمل کی صورت میں ڈھلنی چاہئیں۔ مقامی پولیس کو جدید ترین تربیت، بہتر وسائل اور سب سے بڑھ کر وہ اخلاقی جرأت فراہم کرنا ہوگی جو طاقتور حلقوں کے دباؤ کے باوجود انہیں دیانت داری سے ڈٹے رہنے کا حوصلہ دے۔ انٹیلی جنس کا جال بھی ایسا ہونا چاہیے جو نہ صرف مضبوط ہو بلکہ مقامی اعتماد کے دھاگے سے بُنا گیا ہو تاکہ ہر گاؤں اور ہر بستی ریاست کے ساتھ سانس لیتی محسوس ہو۔
تیسرا قدم جاگیرداروں، سرداروں اور مقامی بااثر شخصیات کو اس کارواں میں شامل کرنے کا ہے۔ انہیں یہ باور کرانا ہوگا کہ امن و سکون کا سایہ انہی کے قافلوں کو ٹھنڈک دے گا۔ مصالحتی کونسلیں اس سمت ایک ایسا پل بن سکتی ہیں جو ہتھیار تھامے ہاتھوں کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں واپس لانے کا ذریعہ بنیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے رعایت کی جو بات کی ہے، وہ انہی کھوئی ہوئی راہوں کو واپس لانے کا دروازہ کھول سکتی ہے۔
چوتھا اور سب سے اہم قدم نوجوان نسل کو ایک نیا افق دینا ہے۔ ایسے افق جہاں بندوق کی جگہ ہنر ہو، بارود کی جگہ کتاب ہو اور اندھی راتوں کی جگہ روشن صبح ہو۔ ہنرمندی کے مراکز، چھوٹے قرضوں پر روزگار کے مواقع اور تعلیمی اداروں کا پھیلاؤ وہ راستے ہیں جو ڈاکوؤں کے اندھیروں سے نکلنے کا حقیقی زینہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ جب ایک نوجوان کے ہاتھ میں کلاشنکوف کے بجائے اوزار یا قلم ہوگا تو وہ دہشت کی راہوں کا مسافر نہیں بنے گا بلکہ تعمیر کا معمار ہوگا۔
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ یہ جنگ محض بندوقوں اور بکتر بند گاڑیوں سے نہیں جیتی جائے گی بلکہ یہ دلوں اور ذہنوں کی جنگ ہے۔ یہ وہ معرکہ ہے جس کے لیے گولی سے زیادہ عزم اور بارود سے زیادہ بصیرت کی ضرورت ہے۔ سندھ حکومت کے حالیہ اعلانات ایک امید کی کرن ہیں مگر اب وقت ہے کہ یہ کرن روشنی کا مینار بنے، نہ کہ محض تقریروں اور پریس کانفرنسوں کا عارضی جگنو ثابت ہو۔ کچے کے لوگ دہائیوں سے ریاستی وعدوں کے عادی ہو چکے ہیں۔ اب انہیں وعدوں نہیں بلکہ عمل کی جیتی جاگتی تصویر چاہیے۔ کیونکہ تاوان کیلئے اغوا ہونے والا ہر مغوی سندھ کے اجتماعی ضمیر پر ایک زخم کی مانند ہے اور ہر بچ نکلنے والا ڈاکو ریاست کی رِٹ پر ایک کاری ضرب کی طرح ہے۔ وقت کی صدا ہے کہ یہ زخم اب مندمل ہوں اور یہ کاری ضربیں اب تاریخ کے زخموں میں بدل جائیں نہ کہ حال کے ناسور میں۔
نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔




