اسلام آباد : خطے میں جاری کشیدگی کے سائے میں پاکستان نے قیامِ امن کے لیے ایک بار پھر "ثالث” کا کلیدی کردار سنبھال لیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر کے درمیان ہونے والا ایک گھنٹے سے زائد طویل ٹیلیفونک رابطہ اس وقت عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گفتگو کے دوران ایران کی شہری تنصیبات پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم نے ایرانی قیادت کو یقین دلایا کہ پاکستان ان مشکل حالات میں اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر کو اپنی حکومت، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے جاری کثیر الجہتی سفارتی رابطوں سے آگاہ کیا، جس کا مقصد خطے میں جنگ کے بادلوں کو چھٹنا ہے۔ایرانی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کی ان مخلصانہ کاوشوں اور پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مذاکرات یا ثالثی کے عمل کو کامیاب بنانے کے لیے ‘اعتماد سازی’ اور جارحیت کے خاتمے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔
Held a detailed telephone conversation with my brother President Masoud Pezeshkian of Iran earlier today, lasting over one hour.
I reiterated Pakistan’s strong condemnation of the continued Israeli attacks on Iran, including recent strikes on civilian infrastructure, and…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) March 28, 2026




