ممبئی : بھارتی سیاستدان اور سابق انڈر سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ ششی تھرور نے بھارت کی موجودہ خارجہ پالیسی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کی حکمتِ عملی "خود فریبی” کے سوا کچھ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی کنجی صرف اور صرف پاکستان کے ساتھ بامقصد مذاکرات میں پنہاں ہے۔
بھارتی اخبار ‘انڈین ایکسپریس’ میں اپنے کالم کے ذریعے ششی تھرور نے مودی سرکار کو آئینہ دکھایا۔ان کاکہنا تھا کہ بھارت کا سنجیدہ اور دانشور طبقہ اب اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ پاکستان سے مستقل دشمنی نبھانے کی پالیسی اب مزید نہیں چل سکتی۔بی جے پی جو پاکستان دشمنی کے سہارے اپنی سیاست چمکاتی ہے، اسے اب ملک کے اندر سے ہی سخت چیلنجز کا سامنا ہے۔
ششی تھرور نے اپنے مقالے میں اس بات پر زور دیا کہ بی جے پی کی "تصادم کی سیاست” نے پورے خطے کو غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پڑوسیوں کے ساتھ کشیدگی بڑھا کر بھارت اپنے ہی مفادات کو نقصان پہنچا رہا ہے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ دشمنی کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔




