ماسکو : روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے مجتبیٰ خامنہ ای کے بطور ایرانی سپریم لیڈر انتخاب کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا ہے۔ روسی صدر نے اپنے خصوصی پیغام میں ایران کی نئی قیادت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے مابین اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
صدر پیوٹن نے مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت پر پختہ یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہا مجھے پورا بھروسہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد (آیت اللہ علی خامنہ ای) کے نظریات اور عظیم مشن کو کامیابی کے ساتھ جاری رکھیں گے۔ روسی صدر نے امید ظاہر کی کہ نئے سپریم لیڈر اس کٹھن اور نازک وقت میں ایرانی عوام کو متحد رکھنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے۔
عالمی سیاسی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے تناظر میں صدر پیوٹن نے تہران کو مضبوط سفارتی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ روس ہر مشکل گھڑی میں ایران کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قیادت کی تبدیلی کے باوجود دونوں ممالک کے دفاعی اور معاشی تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ ان میں مزید وسعت لائی جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق صدر پیوٹن کا یہ بروقت بیان عالمی طاقتوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ روس اور ایران کا بلاک پہلے سے زیادہ مضبوط ہو رہا ہے اور ماسکو تہران میں نئی قیادت کے انتخاب کو خطے کے استحکام کے لیے کلیدی اہمیت دیتا ہے۔




