کراچی :پاکستانی شوبز انڈسٹری کی سینئر اور معتبر اداکارہ بشریٰ انصاری نے اپنے حالیہ یوٹیوب ولاگ میں ہم وطن اداکارہ ہانیہ عامر کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے بھارتی حکومت اور فلمی حلقوں کو کھری کھری سنائیں۔
ولاگ میں بشریٰ انصاری نے کہا کہ بھارتیوں کو بچوں جیسی باتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر ایک پیاری سی، محنتی اور معصوم لڑکی سے اتنا ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا ہانیہ عامر کا کسی بھارتی فلم میں کام کرنا کوئی ایسی "قیامت” ہے جو بھارتی فلم انڈسٹری کو ہلا دے؟۔
یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ہانیہ عامر کی پہلی بھارتی پنجابی فلم "سردار جی 3” ریلیز ہوئی، جس میں وہ دلجیت دوسانجھ کے ساتھ مرکزی کردار میں جلوہ گر ہوئیں۔ فلم کے پاکستان میں بھی ریلیز ہونے پر پاکستانی مداحوں نے خوشی کا اظہار کیا، لیکن بھارت میں کچھ حلقوں کی جانب سے اس پر منفی ردعمل آیا، حتیٰ کہ مبینہ طور پر ہانیہ عامر پر کام کرنے کی پابندی کی باتیں بھی سامنے آئیں۔
بشریٰ انصاری نے ہانیہ کی تعریف کرتے ہوئے کہا "وہ لڑکی دن رات سخت موسم میں محنت کرتی ہے، وہ کوئی اسکینڈل نہیں بناتی، صرف کام کرتی ہے، تو کیا اس کی کامیابی سے اتنا خوف ہے؟۔انہوں نے مزید کہا کہ محنت، خوبصورتی اور پیشہ ورانہ انداز کی بدولت ہانیہ عامر نے یہ مقام حاصل کیا ہے، اور بھارت کو ایک باصلاحیت فنکارہ سے اس قدر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
بشریٰ انصاری نے معروف بھارتی شاعر جاوید اختر کے اس بیان کو بھی غیر مناسب قرار دیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "پاکستانیوں نے کبھی بھارتی فنکاروں کو مدعو نہیں کیا، یہاں تک کہ لتا منگیشکر کو بھی نہیں۔
بشریٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہیہ کہنا کہ پاکستانیوں نے لتا جی کو نہیں بلایا، سراسر ناانصافی ہے۔ پاکستانی ان کے مداح تھے، یقیناً کسی نے انہیں مدعو کیا ہوگا۔ لیکن شاید وہ خود نہیں آنا چاہتی تھیں، یا کسی اور وجہ سے نہیں آئیں۔انہوں نے یاد دلایا کہ دلیپ کمار، جاوید اختر، شتروگن سنہا، ریکھا، گلزار، اور وشال بھردواج جیسے کئی بھارتی فنکار ماضی میں پاکستان آ چکے ہیں۔




