پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش ہوئیں۔ وہ 26 نومبر کو تھانہ صادق آباد میں درج احتجاج، گھیراؤ اور جلاؤ کے مقدمے میں عبوری ضمانت پر ہیں۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ ان کے خلاف اتنے مقدمات قائم کر دئیے گئے ہیں کہ اب یہ سمجھنا مشکل ہو گیا ہے کہ کون سا مقدمہ کہاں درج ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش تھی کہ وکلاء عدالت میں دلائل دیں تاکہ ان مقدمات کا کوئی حل نکلے۔ اگر حکومت ہمیں جیل بھیجنا چاہتی ہے تو بھیج دے، لیکن یہ کیسز اب ختم ہونے چاہییں۔
انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کے ساتھ یا اس کے پیچھے کھڑے ہونے سے فرق نہیں پڑتا، اصل بات ملک کے لیے کھڑا ہونا ہے۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پی ٹی آئی ریاست مخالف جماعت ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
علیمہ خان نے ایک بار پھر واضح کیا کہ عمران خان کے صاحبزادے قاسم اور سلیمان پاکستان آئیں گے۔ ان کے مطابق عمران خان نے انہیں پاکستان آنے سے نہیں روکا بلکہ صرف احتجاجی تحریک کی قیادت نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ باپ ہی کافی ہے تحریک کی قیادت کے لیے، بیٹے ضرور پاکستان آئیں گے۔
علیمہ خان نے رانا ثنا اللہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے بیٹے گرفتاری سے نہیں گھبراتے، کیونکہ ان کے والد پہلے ہی قید میں ہیں، تاہم اگر حکومت نے انہیں گرفتار کیا تو یہ اقدام خود اس کے لیے عالمی سطح پر مسائل کھڑا کر سکتا ہے۔
علیمہ خان نے قاسم خان کے حالیہ انٹرویو سے متعلق کوئی تبصرہ نہیں کیا۔




