پاکستان
Trending

الگورتھم کی آمریت اور تبسم کی تحلیل

 

ہم عجیب دور میں جی رہے ہیں ایسا دور جہاں گفتگو کا لطف کم اور تجزیے کا بوجھ زیادہ ہو گیا ہے۔ لوگ ہنسی سے زیادہ معنی تلاش کرتے ہیں، اور مسکراہٹ سے زیادہ نظریہ۔ جیسے کسی نے ہمارے اندر ایک ایسا داخلی نقّاد بٹھا دیا ہو جو ہر بات کا مفہوم چھاننے پر تُلا رہتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سادہ سی خوشی اب ہمارے ذہن کے معیار پر پوری نہیں اترتی، حالانکہ انسان کی اصل ذہانت کبھی بھی صرف سنجیدگی کی مرہونِ منت نہیں رہی۔
ہم ہر بات میں نظریہ تلاش کرنے لگے ہیں۔ کسی گفتگو کا محض لطف لینا شاید اب ہمارے بس کی بات نہیں رہی۔ سمجھ نہیں آتی کہ ڈیجیٹل ذہین انسان ہر بات سے نظریہ کیوں نکالتا ہے؟ یہ ڈیجیٹل افکار مصنوعی سنجیدگی کے مرہون منت ہیں اور وہ دوسرے کے خیالات کو سن کر محظوظ نہیں ہوتا؟ حالانکہ اصل ذہانت تو یہی ہے کہ نظریات رکھنے کے باوجود دوسروں کی بات مسکرا کر سنی جائے۔ آج کے جدید دور میں مسکرا کر سننے والے کو فلسفی نہیں مانا جاتا، اس الگورتھم کے فلسفے میں اصل ذہین وہی ہے جو آپ کے ہنسنے پر بھی ایک ویڈیو اپلوڈ کر دے اور اس پر بیانیہ جاری کرے۔ اس ڈیجیٹل کوانٹم نے نے شاید افکار کا ،جذبات کا ڈی این اے ہی بدل دیاہے۔ مصنوعی ہنسی اور وی لاگرز کے مصنوعی قہقہوں میں چہروں سے اصل ہنسی معدوم ہو چکی ہے۔ وہ ہنسی جس سے آنکھوں میں کہکشاں اترتی، اور ملے جلے احساسات دل کے تار چھیڑتے ہوے پلکوں کو بھی نم رکھتے۔گویا رونا بھی حقیقی تھا اور ہنسنا بھی۔ تاویلوں کی ضرورت نہ تھی۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہنسنا رونا سب سے بڑا فلسفہ ہے ایسا فلسفہ جو زندگی کو ہلکا بھی کرتا ہے اور گہرا بھی۔
لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ تلخ ہے کہ ہمارے دور کا فکری ماحول بدل چکا ہے۔ گفتگو اب مکالمہ نہیں رہی، بلکہ "کنٹینٹ” بن گئی ہے۔ سنجیدہ چہرہ تاثر بن گیا ہے، اور ہنسی علامتِ غیرسنجیدگی۔ آج کے وی لاگز، موٹیویشنل سپیکرز اور ڈیجیٹل مباحث نے ہمارے افکار پر بھی ایک نئی قسم کی آمریت مسلط کر رکھی ہے الگورتھم کی آمریت۔
ہر بات میں مقصد تلاش کرنا، ہر مسکراہٹ کے پیچھے منطق ڈھونڈنا، ہر لمحے کو کسی نتیجے کا پابند کرنا… یہ سب اسی نئی ذہنی نوآبادیات کے اثرات ہیں۔ اب ہنسنے کی وجہ ثابت کرنی پڑتی ہے، جبکہ رونے کے لیے پوری منطق موجود ہونی چاہیے؛ ورنہ جذبات بھی غیر معتبر سمجھے جاتے ہیں۔
ڈیجیٹل دنیا نے ہمیں ایسے دور میں دھکیل دیا ہے جہاں فکر ایک "برانڈ”، اور خوشی ایک "پروڈکٹ” بن گئی ہے۔ موٹیویشنل کلچر نے یہ تاثر پیدا کر رکھا ہے کہ زندگی ہر وقت کسی نہ کسی مقصد کے زیرِ اثر چلنی چاہیے۔ یوں لگتا ہے جیسے کسی لمحے کو محض محسوس کرنا بھی ایک کمزوری شمار کیا جاتا ہے۔
ہماری گفتگو اب تجربہ نہیں بلکہ "کلپ” ہے۔ ہمارا تاثر اب انسانوں سے نہیں بلکہ ڈیٹا سے بنتا ہے۔ اور ہماری مسکراہٹ… شاید اس نئی دنیا میں سب سے غیر ضروری عنصر ٹھہری ہے۔
مزید افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ الگورتھم نے ہمارے ذہنی ردعمل بھی ڈیجیٹل کر دیے ہیں۔ کچھ اچھا دیکھ کر ہنسنے کے بجائے ہم سوچتے ہیں کہ یہ “کیوں” اچھا لگا؟ کوئی سنجیدہ بات سُن کر جذب ہونے کے بجائے ہم فوراً ذہن میں اس کی "رائے” تیار کرنے لگتے ہیں۔ جیسے ہر احساس کے ساتھ ایک تجزیہ، ہر مسکراہٹ کے ساتھ ایک نظریہ، اور ہر سادگی کے ساتھ ایک پیچیدگی لازم ہو گئی ہو۔
یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم ایک مجموعی ذہنی تھکن کا شکار ہیں ایسی تھکن جو ہنسنے کے عمل کو بھی دلیلوں کی زنجیر میں جکڑ دیتی ہے۔
یونانی فکر میں لطافتِ مزاج اور مسکراہٹ کو علم کا دشمن نہیں سمجھا جاتا تھا۔ سقراط سوال کرتے ہوئے مسکراتا تھا، افلاطون مکالمے میں نرمی رکھتا تھا، اور ارسطو نے بارہا کہا کہ خیرگی انسان کے باطن کی روشنی ہے۔ ان کے ہاں مسکراہٹ تعمیری تھی، سوال کو نرم کرتی تھی، فکر کو قابلِ برداشت بناتی تھی۔ مگر ہم نے علم اور سنجیدگی کو اس قدر سخت بنا دیا ہے کہ اب ہنسنا بھی ذہنی کمزوری یا عدمِ گہرائی سمجھا جاتا ہے۔
جبکہ سچ یہ ہے کہ جن ذہنوں میں لطافت نہ ہو، وہاں فلسفہ سوکھ کر صرف جملوں کی مشقت بن جاتا ہے۔
ڈیجیٹل فلسفے نے ہمیں ایسے مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں جذبات بھی "ٹریک” ہوتے ہیں اور فکر بھی "فالو” ہوتی ہے۔ الگورتھم اب ہمیں بتاتے ہیں کہ ہمیں کس بات پر سوچنا ہے، کس پر ردعمل دینا ہے، اور کس لمحے پر ہنسنا یا رک جانا ہے۔ ایسے میں تبسم کی تحلیل ایک ناگزیر نتیجہ نہیں تو اور کیا ہے؟
اب ہنسی ایک بغاوت بن گئی ہے ایک خاموش احتجاج، ایک چھوٹی مگر مضبوط مزاحمت کہ انسان ابھی مکمل طور پر ڈیجیٹل نہیں ہوا۔
سوال یہ نہیں کہ ہم نظریہ کیوں بناتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نظریہ بنانے کے اس جنون میں زندگی کو کھو تو نہیں رہے؟ کیا ہم مکالمے کو سمجھ رہے ہیں یا صرف جواب تراش رہے ہیں؟ کیا ہم خوشی کو جی رہے ہیں یا اسے ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟
شاید وقت آگیا ہے کہ ہم اس ذہنی سختی سے باہر نکلیں۔ زندگی کو اس کی لطافتوں سمیت قبول کریں۔ اور ہنسی کو اس کی پیدائشی معصومیت کے ساتھ واپس اپنے اندر جگہ دیں۔
کیونکہ کبھی کبھی فلسفہ یہی ہوتا ہے کہ بات کو بس سنا جائے…
لمحے کو بس جیا جائے…
اور مسکراہٹ کو بس مسکراہٹ رہنے دیا جائے—
بغیر تشریح، بغیر دلیل، اور بغیر الگورتھم۔

تحریر:اک سوچ ۔۔۔سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button