ابوظہبی: کیلیفورنیا یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی (کالٹیک) نے ابوظہبی میں ٹیکنالوجی انوویشن انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے ایک انقلابی روبوٹک نظام "ایکس ون” کا نقاب اُٹھایا ہے، جو چلنے، اڑنے اور ڈرائیونگ کی صلاحیتوں کو ایک ہی ڈیوائس میں یکجا کرتا ہے۔ یہ روبوٹ اپنی نوعیت کا پہلا روبوٹ ہے جس میں ان تمام خصوصیات کو ایک ساتھ ضم کیا گیا ہے، جو اسے جدید روبوٹکس میں ایک نیا سنگ میل بناتا ہے۔
"ایکس ون” پہلی نظر میں ایک بای پیڈل روبوٹ کے طور پر دکھائی دیتا ہے جو چلنے کی صلاحیت رکھتا ہے، مگر جب یہ رکاوٹوں کا سامنا کرتا ہے، تو اس کے بیک پیک میں ایک منفرد تبدیلی آتی ہے جو اسے ایک ڈرون میں تبدیل کر دیتی ہے۔ یہ ڈرون رکاوٹوں جیسے جھیلوں یا اونچی سطحوں کے اوپر پرواز کر سکتا ہے۔ اس کے بعد جب یہ روبوٹ زمین پر واپس آتا ہے، تو اس کے پہیے کھل کر اسے ایک چھوٹی گاڑی میں بدل دیتے ہیں، جس سے اس کی حرکت کی حد اور صلاحیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔
"ایکس ون” کی سب سے دلچسپ خصوصیت یہ ہے کہ یہ روبوٹ اپنے ماحول کی نوعیت اور درپیش رکاوٹوں کے مطابق اپنی حرکت کے طریقہ کار کا انتخاب خود کرتا ہے۔ چاہے وہ چلنا ہو، اڑنا ہو یا گاڑی چلانی ہو، یہ روبوٹ خود فیصلہ کرتا ہے کہ کس لوکوموشن کا طریقہ اس کے لیے سب سے زیادہ مؤثر ہوگا۔
یہ اختراع خاص طور پر ریسکیو اور ایکسپلوریشن کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت رکھتی ہے۔ قدرتی آفات جیسے زلزلے یا منہدم عمارتوں میں، یہ روبوٹ ان خطرناک مقامات پر پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے جہاں انسان یا روایتی روبوٹ نہیں جا سکتے۔ اس کی چلنے، اڑنے اور گاڑی چلانے کی خصوصیات اسے مشکل ترین حالات میں کام کرنے کے قابل بناتی ہیں، جیسے کہ انٹرنل ڈیزاسٹرز، سیلاب یا برفانی علاقوں میں۔
محققین کا کہنا ہے کہ اگلے مرحلے میں اس روبوٹ کی مصنوعی ذہانت (AI) کو مزید بہتر کیا جائے گا تاکہ یہ روبوٹ بغیر کسی تفصیلی ہدایت کے اپنے ماحول کو خود سمجھ سکے اور خود بخود بہترین طریقے سے کام انجام دے سکے۔ اس کے بعد یہ روبوٹ کسی بھی چیلنج کو سر کرنے کے لیے مکمل طور پر خود مختار ہو جائے گا۔




