لاہور : وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ غیر قانونی افغان باشندوں کا انخلا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اب افغان شہری پاکستان کے مہمان تصور نہیں کیے جا سکتے۔ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ملک میں حالیہ دہشت گردی کے متعدد واقعات میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملے ہیں، اس لیے غیر قانونی رہائش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ ایف سی اہلکاروں پر حملہ کرنے والے تینوں افراد افغان نکلے، جبکہ اسلام آباد کچہری حملہ آور بھی افغان شہری تھا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم مزید دھماکے افورڈ نہیں کر سکتے”، اسی لیے پورے ملک میں افغان باشندوں کی واپسی کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ انخلا کے بعد دوبارہ داخل ہونے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں افغان مہاجر کیمپ ختم کیے جا رہے ہیں اور وفاقی حکومت کے تمام فیصلوں پر مکمل عملدرآمد ہوگا۔ ساتھ ہی افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔
وزیر داخلہ نے سوشل میڈیا پر جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 90 فیصد خبریں غلط ہوتی ہیں اور اب ایسی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی سے متعلق افواہیں پھیلانے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ بیرون ملک بیٹھ کر اداروں کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کو بھی واپس لا کر جواب طلب کیا جائے گا۔
محسن نقوی نے واضح کیا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے، مگر فیک نیوز اور تذلیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔




