بیجنگ: چین نے ایک اہم پیشرفت کرتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا الیکٹرک دریائی کارگو جہاز "گیزوبا” لانچ کر دیا ہے، جو روایتی ایندھن کے بجائے لیتھیئم بیٹریوں پر چلتا ہے۔ یہ جدید جہاز 130 میٹر طویل ہے اور 13 ہزار ٹن تک وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گیزوبا جہاز 12 لیتھیئم بیٹری پاور یونٹس سے لیس ہے، جو مجموعی طور پر 24 ہزار کلو واٹ آور بجلی فراہم کرتے ہیں۔ اس کی بیٹریاں تیزی سے تبدیل کی جا سکتی ہیں اور یہ ایک بار چارج ہونے پر 500 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے چین نے سمندری نقل و حمل کے شعبے میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا ہے۔
چین کے اس نئے بحری جہاز میں جدید اسمارٹ کنٹرول سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے، جس کی بدولت ریموٹ نیویگیشن اور خودکار برتھنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔ یہ خصوصیت جہاز کے آپریشن کو زیادہ محفوظ اور آسان بناتی ہے، جس سے انسانی عملے کی ضرورت کم ہو جاتی ہے اور جہاز کے چلانے میں کارکردگی بہتر ہوتی ہے۔
چائنیز اکیڈمی آف انجینیئرنگ کے یِن شن پنگ نے اس کامیابی کو ایک جامع تکنیکی پیش رفت قرار دیا ہے اور کہا کہ اس پروجیکٹ میں بڑی بیٹریوں، ڈی سی پاور سسٹمز، ریموٹ پائلٹنگ، اور جدید نیٹ ورک انٹیگریشن جیسی جدید ٹیکنالوجیز کو کامیابی سے آزمایا گیا ہے۔
چین کے مطابق، یہ الیکٹرک جہاز سالانہ 617 ٹن ایندھن کی بچت کرے گا، اور اس کے ذریعے کاربن کے اخراج کو سالانہ 2 ہزار ٹن تک کم کیا جائے گا۔ یہ اقدام چین کی ماحولیاتی پالیسی اور کم کاربن معیشت کی طرف ایک اہم قدم ہے، جس سے نہ صرف سمندری نقل و حمل کی صنعت میں انقلاب آئے گا، بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی واقع ہوگی۔
یہ الیکٹرک جہاز نہ صرف چین بلکہ دنیا بھر میں جدید اور ماحول دوست نقل و حمل کے نظام کے فروغ میں مددگار ثابت ہو گا۔ اس پروجیکٹ کی کامیابی سے دیگر ممالک بھی ایسے جدید بحری جہاز بنانے میں دلچسپی لے سکتے ہیں جو روایتی ایندھن پر انحصار کیے بغیر سمندری تجارت کو آگے بڑھا سکیں۔




