راولپنڈی: ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان پر کوئی حملہ نہیں کیا اور ملک کی پالیسی صرف دہشت گردی کے خلاف ہے، افغان عوام کے خلاف نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنرل فیض حمید کا ٹرائل قانونی اور عدالتی عمل کے تحت جاری ہے اور اس پر قیاس آرائی نہیں ہونی چاہیے۔ جیسے ہی معاملہ حتمی نتیجے پر پہنچے گا، فوری اعلان کیا جائے گا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ علانیہ کارروائی کرتا ہے اور کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا۔ دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں کی جاتی، نہ کوئی “گڈ” یا “بیڈ” طالبان ہیں۔
انہوں نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ ریاست کی طرح فیصلے کرے، نان اسٹیٹ ایکٹر کی طرح نہیں۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر پابندی کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی کیونکہ دہشت گردی کے کئی واقعات میں انہی گاڑیوں کا استعمال ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ایک ریاست کی طرح ردعمل دیتا ہے اور “بلڈ اور بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ حملے بھی ہوں اور تجارت بھی، یہ ممکن نہیں۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ 4 نومبر سے اب تک 4,910 انسداد دہشت گردی آپریشن کیے جا چکے ہیں، روزانہ اوسطاً 232 آپریشن ہوئے، اور اس دوران 336 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔




