بحرِ اوقیانوس میں عالمی طاقتوں کے درمیان تناؤ شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے روس اور وینزویلا کے دو تیل بردار جہازوں کو تحویل میں لے لیا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آئل ٹینکر امریکی پابندیوں کی زد میں آنے والے ممالک کا خام تیل لے جا رہے تھے اور نام نہاد ’’شیڈو فلیٹ‘‘ کا حصہ تھے۔ امریکی حکام کے مطابق ضبط کیے گئے جہازوں کے عملے کو امریکی عدالتوں میں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکا نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ روس نے مبینہ طور پر ان آئل ٹینکروں کی حفاظت کے لیے اپنی بحریہ کو تعینات کیا تھا۔ اس دوران برطانیہ نے اعتراف کیا ہے کہ روسی آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کی کارروائی میں امریکی فوج کی مدد کی گئی۔
دوسری جانب روس نے امریکی اقدام پر شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ طاقت کے ذریعے دوسری ریاست کے جہازوں کو روکے یا ان پر قبضہ کرے۔ واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔




