لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی تازہ رپورٹ کے مطابق دریائے راوی، ستلج اور چناب میں حالیہ سیلاب نے صوبے کے مختلف حصوں میں زبردست تباہی مچائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر 4,400 سے زائد موضع جات اس قدرتی آفت سے متاثر ہوئے ہیں۔
خصوصی طور پر دریائے چناب کے علاقے میں صورتحال زیادہ تشویشناک ہے جہاں تقریباً 2,190 موضع جات سیلابی پانی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ اس بڑے پیمانے پر تباہی نے مقامی آبادی کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔
ریلیف کمشنر نبیل جاوید کا کہنا ہے کہ حکومت نے متاثرین کی مدد کے لیے فوری ریلیف سرگرمیاں شروع کر رکھی ہیں، جن میں پانی کی نکاسی، خوراک، دوا اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔ تاہم، طویل المدتی منصوبہ بندی اور سیلاب سے بچاؤ کے موثر اقدامات کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
یہ سیلاب نہ صرف مالی نقصان کا باعث بنا ہے بلکہ کسانوں کی فصلیں تباہ ہونے سے زراعت کو بھی سنگین دھچکا لگا ہے، جس کے اثرات اگلے موسموں میں بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے فوری حکومتی توجہ اور عوامی تعاون ناگزیر ہے تاکہ ایسی آفات کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔




