واشنگٹن/تہران: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف باقاعدہ فوجی آپریشن کی تصدیق کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایرانی رجیم کے خلاف اسٹریٹجک کارروائی شروع کر دی ہے جس کا مقصد امریکی عوام کا تحفظ اور ایرانی خطرے کا مستقل خاتمہ ہے۔
ذرائع کے مطابق تہران کے انتہائی محفوظ ترین سمجھے جانے والے علاقوں میں فضا اور سمندر سے میزائل داغے گئے ہیں۔ تہران میں صدارتی محل اور ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی رہائش گاہ کے انتہائی قریب 7 میزائل گرے ہیں۔اسرائیلی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ آپریشن کی پہلی لہر ہے جس میں ایوانِ صدر اور وزارتِ اطلاعات جیسے حساس اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حملے کے لیے جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی اور بحری بیڑوں کا استعمال کیا گیا ہے، جس کے بعد تہران میں مضافات دھوئیں کے بادلوں میں چھپ گئے ہیں۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں واضح کیا "ہمارا مقصد امریکی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے، ہم نے کچھ دیر پہلے آپریشن کا آغاز کیا ہے اور ہم ایرانی رجیم کی مہم جوئی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گے۔




