واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری حالیہ عسکری کارروائیوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ تہران محض 14 دنوں کے فاصلے پر ایٹمی طاقت بننے والا تھا، جسے امریکی حملوں نے ناکام بنا دیا ہے۔واشنگٹن میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے حوالے سے اپنی پالیسی کے خدوخال واضح کیے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے میزائلوں اور لانچرز کا چن چن کر صفایا کیا جا رہا ہے اور اس کا دفاعی ڈھانچہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق، حالیہ حملوں نے ایران کو جوہری دوڑ میں کئی سال پیچھے دھکیل دیا ہے۔ ٹرمپ نے سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا، "ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے، اب جو بھی قیادت سنبھالے گا وہ مارا جائے گا۔”
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ایرانی نظام پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایران میں گزشتہ 47 برسوں سے جاری قتل عام اور دہشت گردی کو لگام دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امریکی پوزیشن اس وقت سب سے زیادہ مستحکم ہے۔ہماری فوج دنیا کی بہترین اور بہادر ترین قوت ہے، جو میدانِ جنگ میں اپنی مہارت کا لوہا منوا رہی ہے۔ ایران کے معاملے میں ہم تزویراتی طور پر انتہائی مضبوط پوزیشن میں آ چکے ہیں۔
ٹرمپ نے صورتحال کو اپنی توقعات سے کہیں زیادہ بہتر قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ وہ ایران کو ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی اجازت کبھی نہیں دیں گے، چاہے اس کے لیے کتنی ہی بڑی فوجی کارروائی کیوں نہ کرنی پڑے۔




