بیجنگ: مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید عسکری کشیدگی پر چین نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین کے درمیان خصوصی ایلچی بھیجنے اور ثالثی کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ چینی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام عالمی معیشت اور توانائی کی ترسیل کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے اپنے خصوصی بیان میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ گزرگاہ عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اس خطے میں جنگ طویل ہوئی تو عالمی سطح پر توانائی کی ترسیل رک جائے گی جس کا اثر براہِ راست عالمی معیشت پر پڑے گا۔
سمندری گزرگاہوں کا تحفظ اور خطے کا استحکام پوری عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔وزیر خارجہ وانگ ای نے اعلان کیا ہے کہ چین خاموش تماشائی نہیں رہے گا بلکہ مذاکرات کے لیے اپنا خصوصی ایلچی روانہ کر رہا ہے جو فریقین کے مابین رابطے بحال کرنے کی کوشش کرے گا۔ چین کا موقف ہے کہ فریقین فوری طور پر تمام عسکری کارروائیاں معطل کریں۔ طاقت کے بجائے میز پر بیٹھ کر مسائل کا حل نکالا جائے۔ کشیدگی میں اضافہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے اور اس سے عالمی معاشی ڈھانچہ متاثر ہوگا۔




