تہران/تل ابیب: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ ایران نے اپنے تزویراتی فوجی مشن ‘وعدہ صادق 4’ کی 25 ویں لہر کا آغاز کرتے ہوئے اسرائیل اور خطے میں موجود امریکی فوجی اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز کی بارش کر دی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے اس تازہ کارروائی میں اپنے سب سے جدید بیلسٹک میزائل ‘القدر’ اور ہائپر سونک میزائل ‘الفتح’ کا استعمال کیا ہے۔ ان میزائلوں نے اسرائیل کے اندر اسٹریٹجک دفاعی تنصیبات اور اہم عسکری مراکز کو نشانہ بنایا، جس سے بڑے پیمانے پر تباہی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
آپریشن کے دوران متحدہ عرب امارات (UAE) میں واقع ‘دھفر ایئربیس’ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، جو امریکی فضائیہ کا ایک اہم مرکز ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایرانی میزائلوں نے ایئربیس کے حساس حصوں کو نقصان پہنچایا ہے، جس کے بعد پورے خطے میں امریکی افواج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
زمینی حملوں کے ساتھ ساتھ ایرانی بحریہ نے بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایرانی ڈرونز نے سمندر میں موجود امریکی بحری بیڑوں اور اسرائیلی اسٹریٹجک مقامات پر خودکش حملے کیے ہیں۔ عسکری ماہرین کے مطابق ان مربوط حملوں کا مقصد دشمن کے دفاعی نظام کو مفلوج کرنا ہے۔
ایران کے اس جارحانہ اقدام نے عالمی طاقتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ تہران کا موقف ہے کہ یہ کارروائی ‘وعدہ صادق’ کے سلسلے کی کڑی ہے اور اس کا مقصد خطے میں غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ اور دفاعی توازن برقرار رکھنا ہے۔




