بین الاقوامی
Trending

وائٹ ہاؤس کا ہنگامی حکم: اسرائیل کے لیے ٹیکساس کی فیکٹری سے 12 ہزار بموں کی فوری روانگی

 

نیویارک: ٹرمپ انتظامیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی نئی صورتحال کے پیشِ نظر اسرائیل کو 151.8 ملین ڈالر کے جدید اسلحے کی فراہمی کے لیے تمام روایتی رکاوٹیں ختم کر دی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس کو بائی پاس کر کے اس سودے کی فوری منظوری دے دی ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کو فراہم کیے جانے والے پیکیج میں 12 ہزار طاقتور بم شامل ہیں۔ ان میں ایک ہزار پونڈ وزنی بموں کی بڑی تعداد شامل ہے جو اپنی تباہ کن صلاحیت کے لیے جانے جاتے ہیں۔ یہ اسلحہ براہِ راست امریکی فوجی اسٹاک اور ٹیکساس میں قائم دفاعی پیداواری یونٹ سے فراہم کیا جائے گا۔
غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس میں بحث اور ووٹنگ کے طویل عمل سے بچنے کے لیے ہنگامی اختیارات کا سہارا لیا ہے، تاکہ اسرائیل کی عسکری ضروریات کو "بغیر کسی تاخیر” کے پورا کیا جا سکے۔ امریکی قانون صدر کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ غیر معمولی حالات میں قومی سلامتی کے نام پر براہِ راست اسلحہ فروخت کر سکے۔
اسلحے کی اس بڑی کھیپ کی منظوری کو تہران اور تل ابیب کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیکساس کی فیکٹری سے براہِ راست ترسیل کا مطلب یہ ہے کہ یہ بم چند ہی دنوں میں اسرائیل کے دفاعی نظام کا حصہ بن جائیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button