بلاگز

عورت: شکست سے پرے ایک وجود

 تحریر: سعدیہ مجید

وہ سر جھکاتی رہی رشتوں کی حرمت کے لیے
زمانہ سمجھا کہ شاید اسے ہار آ تی ہے۔۔
کہتے ہیں کہ دریا جب پہاڑوں سے ٹکراتا ہے تو راستہ بدل لیتا ہے، مگر بہنا نہیں چھوڑتا۔ اسی طرح ایک وجود ہے جو صدیوں سے معاشروں کی چٹانوں سے ٹکراتا رہا ہے، مگر اپنی روانی، اپنی روشنی اور اپنی معنویت کھوئے بغیر آگے بڑھتا رہا۔ یہ وجود عورت کا ہے۔

وہ جب ماں بنتی ہے تو وقت کی سب سے نرم آغوش بن جاتی ہے۔ ایک ایسا سایہ جو بچوں کے خوف، بھوک، خواب اور مستقبل کو اپنے دامن میں سمیٹ لیتا ہے۔ جب وہ بیوی بنتی ہے تو گھر کی خاموش دیواروں میں زندگی کی سانس بن جاتی ہے۔ اور جب وہ کام کرنے نکلتی ہے تو معاشرے کی معیشت، علم اور اداروں میں ایک خاموش مگر فیصلہ کن طاقت بن جاتی ہے۔

یہ طاقت کسی مقابلے کی پیداوار نہیں۔ یہ فطرت کی عطا ہے۔
عورت نے کبھی مرد کی حاکمیت کو للکارنے کا پرچم نہیں اٹھایا۔ اس نے صدیوں تک رشتوں کو سنبھالنے، خاندانوں کو جوڑنے اور معاشروں کو تہذیب دینے کا کام کیا۔ اس نے جنگیں نہیں لڑیں مگر جنگوں کے بعد بکھرے ہوئے گھروں کو دوبارہ آباد کیا۔ اس نے سلطنتیں قائم نہیں کیں مگر نسلوں کو انسان بنانا اس کے حصے میں آیا۔

پھر بھی سوال باقی ہے کہ جس وجود نے کبھی اقتدار کی جنگ نہیں لڑی، اسے مسلسل آزمائشوں کے میدان میں کیوں دھکیلا جاتا ہے۔معاشرے کے آئینے میں عورت کو اکثر جسم کے پیمانوں میں قید کر دیا جاتا ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اس کی گردن کتنی باریک ہونی چاہیے، اس کی کمر کتنی پتلی ہونی چاہیے، اس کا چہرہ کیسا دکھنا چاہیے۔ گویا اس کی روح، اس کی عقل، اس کی جدوجہد اور اس کے خواب کسی فہرست میں شامل ہی نہیں۔
حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ عورت کا اصل قد اس کے جسم کے پیمانوں سے نہیں بلکہ اس کی برداشت، اس کی دانش اور اس کی حوصلہ مندی سے ناپا جاتا ہے۔

ایک عورت جب زندگی کے بڑے صدمات سے گزرتی ہے، جب وہ نقصان کی اندھیری وادیوں میں کھڑی ہوتی ہے، جب وہ ایسے دکھ سہتی ہے جنہیں لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں، تب بھی وہ ٹوٹ کر مٹی نہیں ہو جاتی۔ وہ اپنے آنسوؤں سے نئی مٹی گوندھتی ہے اور اس سے امید کا ایک اور چراغ بنا لیتی ہے۔اسی لیے دنیا میں سب سے مضبوط ستون اکثر وہ عورت ہوتی ہے جو سب کچھ کھو کر بھی کھڑی رہتی ہے۔

وہ  اگر سنگل ماں بن جائے تو بچوں کے لیے باپ کا حوصلہ اور ماں کی شفقت دونوں بن جاتی ہے۔ وہ ملازمت کرے تو پیشہ ورانہ میدان میں ایسی سنجیدگی اور نظم پیدا کرتی ہے جس پر ادارے کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ گھر سنبھالے تو خاندانوں کے رشتوں کو ٹوٹنے سے بچا لیتی ہے۔یہ سب کچھ کسی شور کے بغیر ہوتا ہے۔
مگر وقت آ گیا ہے کہ عورت اپنے وجود کے بارے میں ایک نئی قرارداد خود لکھے۔
یہ قرارداد کسی بغاوت کی نہیں بلکہ شعور کی ہے۔ اس کا مطلب صرف اتنا ہے کہ عورت اپنے جسم اور اپنی روح دونوں کی مالک ہے۔ اس کی عزت اور اس کی شناخت کسی بازار، کسی اشتہار، کسی روایت یا کسی سماجی دباؤ کے ذریعے متعین نہیں ہو سکتی۔اس کے جسم کو حسن کے سانچوں میں قید کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ روح کی طاقت جسم کے خدوخال سے کہیں بڑی ہوتی ہے۔

عورت اگر چاہے تو ماں بھی بنے، محقق بھی، استاد بھی، شاعر بھی، منتظم بھی اور رہنما بھی۔ اس کی صلاحیتوں کو ایک ہی خانے میں بند کرنا دراصل معاشرے کی اپنی محرومی ہے۔کیونکہ عورت صرف ایک کردار نہیں، ایک پورا نظام ہے۔

وہ وقت کی دھول میں دفن ہونے والی کہانی نہیں بلکہ تاریخ کی وہ روشن سطر ہے جو ہر نسل کو یہ یاد دلاتی ہے کہ برداشت کمزوری نہیں ہوتی اور خاموشی ہمیشہ شکست نہیں ہوتی۔بعض اوقات سب سے بڑی طاقت یہی ہوتی ہے کہ انسان ٹوٹنے کے بعد بھی انسان رہتا ہے۔عورت بھی اسی طاقت کی علامت ہے۔

وہ شکستوں کے باوجود زندگی کو تھامے رکھتی ہے۔ وہ دکھ کے باوجود محبت کو زندہ رکھتی ہے۔ وہ تنہائی کے باوجود امید کو مرنے نہیں دیتی۔اسی لیے شاید کائنات کا توازن اسی کے صبر پر قائم ہے۔یہ حقیقت جتنی جلدی معاشرے سمجھ لیں، اتنا ہی بہتر ہے۔ کیونکہ جس دن عورت کو محض جسم نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر دیکھا جائے گا، اس دن صرف عورت نہیں بلکہ پورا معاشرہ آزاد ہو جائے گا۔

اور اس دن دریا کو راستہ بدلنے کی ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔وہ اپنی اصل سمت میں بہہ رہا ہوگا۔

اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button