بین الاقوامی
Trending

تہران میں بڑی سیاسی ہلچل: نئے ایرانی سپریم لیڈر کا خفیہ انتخاب مکمل ہونے کا دعویٰ

 

تہران: ایران کی طاقتور 88 رکنی کونسل ‘مجلسِ خبرگان’ نے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانشین کے حوالے سے ‘اکثریتی اتفاقِ رائے’ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے کونسل کے اراکین کو براہِ راست نشانہ بنانے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
مجلسِ خبرگان کے رکن آیت اللہ محسن حیدری آل کثیر نے انکشاف کیا ہے کہ موجودہ سیکیورٹی حالات کے پیشِ نظر ارکان کا روایتی اجلاس منعقد کرنا ممکن نہیں تھا، تاہم ایک موزوں امیدوار کا انتخاب پہلے ہی کر لیا گیا ہے
اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر مجلسِ خبرگان کے ارکان نئے سپریم لیڈر کی نامزدگی کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے تو ان کے ٹھکانوں کو میزائلوں سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔دوسری جانب، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ وہ مجتبیٰ خامنہ ای (علی خامنہ ای کے فرزند) کی بطور ممکنہ سپریم لیڈر نامزدگی کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اس کے باوجود ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ کسی بیرونی دباؤ یا دھمکی کے بغیر اپنا آئینی فیصلہ مکمل کریں گے۔
مجلسِ خبرگان کے رکن حجت الاسلام جعفری نے ‘فارس نیوز’ کو بتایا کہ نئے رہنما کے انتخاب میں تاخیر عوام کے لیے پریشان کن ہے لیکن موجودہ غیر معمولی حالات میں ‘انتہائی احتیاط’ لازم ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ایرانی قوم جلد ہی اس فیصلے سے مطمئن ہو جائے گی۔
یاد رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جو 37 برس تک ملک کے سیاہ و سفید کے مالک رہے، رواں سال 28 فروری 2026 کو تہران میں ایک مشترکہ امریکی و اسرائیلی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔ ایران کے آئین کے تحت اب نئے رہبر کا انتخاب مجلسِ خبرگان کی ذمہ داری ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button