تہران/تل ابیب :ایران کی جانب سے شروع کیے گئے ‘آپریشن وعدہ صادق 4’ کی 54 ویں لہر نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کے اہم تزویراتی مقامات اور متحدہ عرب امارات میں موجود امریکی فضائی اڈے کو اپنے نشانے پر لے لیا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے ایک لرزہ خیز بیان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کا پیچھا نہیں چھوڑیں گے۔ ترجمان کے مطابق اگر بچوں کا قاتل مجرم ابھی زندہ ہے تو اس کا تعاقب جاری رہے گا، اسے ڈھونڈ نکالا جائے گا اور پوری طاقت سے قتل کیا جائے گا۔
اس حملے کی سب سے اہم کڑی ایران کے جدید ترین میزائلوں کا استعمال ہے۔ رپورٹ کے مطابق سیجل (Sejjil) میزائل کو پہلی بار کسی باقاعدہ جنگی کارروائی میں استعمال کیا گیا، جس نے 2 ٹن وزنی وار ہیڈ کے ساتھ اپنے اہداف کو ملیامیٹ کر دیا۔ اس کے علاوہ خیبر شکن، خرمشہر، قادر اور عماد جیسے بیلسٹک میزائلوں نے دفاعی نظام کو ناکام بناتے ہوئے تل ابیب میں تباہی مچائی۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تل ابیب اور گردونواح میں 100 سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں عمارتیں اور گاڑیاں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ مزید برآں، پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے 10 میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے متحدہ عرب امارات میں قائم امریکی فضائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا ہے۔




