اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے آپریشن ‘غضب للحق’ کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ برادر اسلامی ممالک کی اپیل اور عید الفطر کے تقدس کی خاطر عسکری کارروائیاں عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات نے آپریشن کی اب تک کی ہولناک کامیابیوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے دشمن کو پہنچنے والے جانی و مالی نقصان کا کچا چٹھا کھول دیا۔ پاک فورسز کی ضرب سے اب تک 707 افغان طالبان ہلاک اور 938 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
افغان طالبان رجیم کی 255 چوکیوں کو نیست و نابود کیا گیا، جن میں سے 44 چوکیوں پر اب پاکستان کا کنٹرول ہے۔دشمن کے 237 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپیں ملبے کا ڈھیر بنا دی گئیں۔ 16 مارچ کی رات کابل اور ننگرہار میں اہم فوجی تنصیبات سمیت 81 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
عطا تارڑ نے واضح کیا کہ سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی خصوصی درخواست پر یہ وقفہ کیا جا رہا ہے۔یہ تعطل آج رات سے شروع ہو کر 23 اور 24 مارچ کی درمیانی رات تک نافذ رہے گا۔ عطا تارڑ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ اگر اس دوران سرحد پار سے کوئی بھی ڈرون حملہ یا دہشت گردی کی گئی، تو آپریشن ‘غضب للحق’ کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ دوبارہ شروع کر دیا جائے گا۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتا ہے اور یہ عارضی وقفہ محض انسانی ہمدردی اور اسلامی اقدار کے احترام میں ہے، اسے ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔
TEMPORARY PAUSE IN OPERATION GHAZAB LIL HAQ
(18 Mar 26)In view of the upcoming Islamic festival of Eid-ul-Fitr, upon its own initiative as well as on the request from the brotherly Islamic countries of the Kingdom of Saudi Arabia, the State of Qatar and the Republic of Turkiye,…
— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) March 18, 2026




