برلن/کابل : افغانستان کی موجودہ حکومت (طالبان رجیم) کو بین الاقوامی سطح پر ایک اور بڑی سفارتی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ جرمنی کی جانب سے افغان نمائندے کو تسلیم کرنے سے صاف انکار نے کابل کے حکمرانوں کی عالمی قبولیت حاصل کرنے کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق، جرمنی کا یہ سخت فیصلہ طالبان رجیم کی غیر جمہوری اور آمرانہ پالیسیوں کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کی پرتشدد پالیسیاں نہ صرف افغان عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہیں بلکہ ملک کے اندر ایک سنگین انسانی بحران کو جنم دے رہی ہیں۔ بین الاقوامی برادری افغانستان میں انسانی حقوق اور خواتین کی آزادیوں کے حوالے سے طالبان کے رویے پر سخت تحفظات رکھتی ہے۔
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمنی جیسے بااثر یورپی ملک کا یہ اقدام دیگر مغربی ممالک کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ سفارتی ناکہ بندی: جب تک طالبان اپنے طرزِ حکومت میں اصلاحات نہیں لاتے، انہیں عالمی برادری میں خوش آمدید نہیں کہا جائے گا۔کابل رجیم کی موجودہ پالیسیاں افغانستان کی عالمی ساکھ کو مسلسل متاثر کر رہی ہیں، جس سے ملک کی معاشی اور سیاسی بحالی ناممکن ہوتی جا رہی ہے۔




