بین الاقوامی
Trending

ٹرمپ کا "ایران آپریشن” کے آغاز کا اشارہ: 13 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ

 

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جارحانہ حکمتِ عملی کا اعلان کرتے ہوئے عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی ہے۔ قوم سے خطاب میں صدر نے تصدیق کی کہ ایران کے حالیہ حملوں میں 13 امریکی فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جس کے بعد اب امریکہ کی جانب سے "فیصلہ کن کارروائی” ناگزیر ہو چکی ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایران کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ تہران کے پاس نئی ڈیل کے لیے صرف دو سے تین ہفتوں کا وقت ہے۔ انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو امریکی فضائیہ اور میزائل فورس ایران کے بنیادی ڈھانچے کو اس طرح نشانہ بنائے گی کہ ملک دہائیوں پیچھے چلا جائے گا۔
ایک حیران کن بیان میں صدر نے کہا کہ امریکہ کو اب مشرقِ وسطیٰ میں "تیل کی پہرے داری” کی ضرورت نہیں ہے۔ امریکہ اب تیل کے لیے خلیج میں جنگیں نہیں لڑے گا بلکہ صرف اپنے قومی وقار اور فوجیوں کے خون کا حساب لے گا۔دفاعی ماہرین صدر کے اس خطاب کو "اعلانِ جنگ” کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 21 دنوں کے لیے اہداف کی فہرست تیار کر لی گئی ہے، جس میں ایران کے معاشی مراکز اور عسکری تنصیبات شامل ہیں۔
اس خطاب نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی گھنٹی بجا دی ہے اور عالمی طاقتیں ممکنہ تصادم کو روکنے کے لیے سرگرم ہو گئی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button