لاہور/کراچی/پشاور: آج یکم مئی کا سورج محنت کشوں کے نام عزمِ نو کا پیغام لے کر طلوع ہوا ہے۔ علامہ اقبال کے فلسفے "ہیں تلخ بہت بندہِ مزدور کے اوقات” کی تصویر بنے لاکھوں محنت کش آج اپنے حقوق کی بازیابی اور طبقاتی نظام کے خاتمے کے لیے سڑکوں پر ہیں۔
ملک کے طول و عرض میں آج مزدور تنظیموں نے طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔
شہر شہر نکلنے والے جلوسوں میں مزدوروں نے اپنے اوزار تھام کر شرکت کی، جو اس بات کی علامت ہے کہ کارخانوں کا پہیہ گھومتا ہے تو دنیا ترقی کرتی ہے۔مقررین نے 1886 کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ حقوق مانگنے سے نہیں، چھیننے سے ملتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، جہاں ایک طرف ایوانوں میں بڑی بڑی تقریریں جاری ہیں، وہیں دوسری جانب پاکستان کا مزدور طبقہ آج بھی چند بنیادی مطالبات کے گرد اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ مہنگائی کے سونامی میں مزدور کی تنخواہ ‘اونٹ کے منہ میں زیرہ’ ثابت ہو رہی ہے۔ نجی شعبوں میں کام کرنے والے لاکھوں محنت کش آج بھی پنشن اور علاج کی سہولت سے محروم ہیں۔ بھٹہ خیز اور گھریلو ملازمین کے استحصال کے خلاف سخت قوانین کے نفاذ کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یومِ مئی صرف ایک کیلنڈر کی چھٹی نہیں بلکہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے سینہ سپر ہونے کا دن ہے۔ مزدور رہنماؤں نے دو ٹوک پیغام دیا ہے کہ جب تک محنت کش کو اس کے پسینے کے خشک ہونے سے پہلے اجرت اور معاشرے میں عزت نہیں ملے گی، ترقی کا خواب شرمندہِ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
پیرس سے لے کر بیجنگ اور لندن سے لے کر نیویارک تک، آج دنیا بھر کے محنت کش "ایک ہو جاؤ” کا نعرہ بلند کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں نے مزدوروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے انہیں ملک کی معاشی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا ہے۔




