سانیا: صدرِ مملکت آصف علی زرداری کے دورہ چین کے دوسرے مرحلے میں پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے نئے افق روشن ہوئے ہیں۔ سانیا میں منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی تقریب میں دونوں ممالک کے معروف اداروں نے تعمیراتی مشینری، میڈیکل ٹیکنالوجی اور لائیو اسٹاک سیکٹر میں تعاون کی یادداشتوں پر دستخط کیے، جن کا مقصد پاکستانی معیشت میں جدید چینی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا ہے۔
تقریب میں صدر آصف علی زرداری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جس کے دوران درج ذیل اہم معاہدوں کو حتمی شکل دی گئی۔ پاکستان کی ‘الحسن ٹریڈ اسٹیبلشمنٹ’ اور چین کے معروف ‘سینی گروپ’ (Sany) کے درمیان تعمیراتی مشینری کی فراہمی اور مقامی سطح پر تعاون کا معاہدہ ہوا۔
‘ہینان جیالونگ انٹرنیشنل ٹیکنالوجی’ کے ساتھ طبی آلات اور صحت سے متعلقہ ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ لائیو اسٹاک کی پیداوار اور جانوروں کی صحت کے شعبے میں تحقیق کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔
ان تاریخی معاہدوں پر پاکستان کی جانب سے سینیٹر سلیم مانڈوی والا، جبکہ چینی اداروں کی جانب سے سینی گروپ کے نائب صدر اور چیئرمین نے دستخط کیے۔ تقریب کے دوران ہال میں موجود شرکاء کو پاکستان اور چین کے درمیان 75 سالہ مثالی سفارتی تعلقات پر مبنی ایک خصوصی دستاویزی فلم دکھائی گئی، جسے دیکھ کر دونوں ممالک کے وفود نے دیرینہ دوستی کے جذبے کو سراہا۔
اس موقع پر صدرِ مملکت نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات اب محض دفاعی نہیں بلکہ ایک گہری معاشی شراکت داری میں بدل چکے ہیں۔ انہوں نے چینی کمپنیوں کو یقین دلایا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول اور ہر ممکن سہولیات فراہم کی جائیں گی۔




