نیویارک: افغانستان کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی امدادی مشن (یوناما) نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کابل کی موجودہ انتظامیہ کے طرزِ حکمرانی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے افغان عوام کی زبوں حالی اور ان پر ہونے والے ریاستی جبر کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، افغان طالبان رجیم کی سخت گیر اور غیر لچکدار پالیسیاں ملک کو ایک گہرے انسانی بحران اور عالمی تنہائی کی طرف لے جا رہی ہیں۔
دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ افغان شہریوں کو حاصل بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں روز کا معمول بن چکی ہیں، جس نے پورے ملک کو ایک داخلی گھٹن اور خوف کے ماحول میں مبتلا کر دیا ہے۔ خواتین کی سماجی و تعلیمی سرگرمیوں پر مسلسل پابندیوں اور سخت جابرانہ قوانین کی وجہ سے افغان معاشرہ معاشی اور سماجی طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کی موجودہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔ طالبان رجیم کی ہٹ دھرمی کے باعث ملک کو ملنے والی بین الاقوامی امداد تقریباً ختم ہو چکی ہے، جس سے عام افغان شہری بھوک اور افلاس کی دلدل میں دھنستا جا رہا ہے۔
معاشی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یوناما کی یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ اگر کابل انتظامیہ نے عالمی برادری کے تحفظات دور نہ کیے اور اپنے جابرانہ ہتھکنڈوں سے باز نہ آئی، تو افغانستان دنیا کے نقشے پر مکمل طور پر تنہا ہو جائے گا، جس کا خمیازہ صرف اور صرف وہاں کی مظلوم عوام کو ہی بھگتنا پڑے گا۔




