میدانِ عرفات:عازمینِ حج کے سب سے بڑے اجتماع کے موقع پر مسجدِ نمرہ سے حج کا خطبہ دیتے ہوئے امامِ عالی مقام شیخ علی عبدالرحمٰن الحذیفی نے عالمِ اسلام کو تقویٰ کی راہ اپنانے کی پرزور تاکید کی ہے۔ انہوں نے خطبہ حج میں واضح کیا کہ دلوں میں اللہ کی خشیت پیدا کرنا ہی اہل ایمان کی اصل شان ہے، اور مومن کا اصل اثاثہ یہ ہے کہ وہ اس عارضی دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کے اٹل دن کی تیاری کرے۔
امامِ حج نے عقیدہ توحید اور ختمِ نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات میں کسی کو شریک ٹھہرانے والا آسمان سے گرنے والے کی مانند ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں فرمایا کہ نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے آخری رسول اور خاتم النبین ہیں اور اس عقیدے پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔
خطبے کے دوران قیامت کے خوفناک منظر کا ذکر کرتے ہوئے عازمین کو بتایا گیا کہ قیامت کا زلزلہ بہت بڑا اور اس دن اللہ کا عذاب شدید ہوگا۔ یہ ہولناکی ہر لمحے کو روک دے گی اور مائیں اپنے بچوں کو بھول جائیں گی۔ اللہ ہی حق ہے جو مردوں کو دوبارہ قبروں سے اٹھائے گا، اس لیے آخرت کی تیاری کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے۔
امامِ عالی مقام نے امتِ مسلمہ کو زندگی گزارنے کے لیے ان بنیادی احکامات کی پابندی کا حکم دیا پانچ وقت کی نماز قائم کریں اور اللہ کی راہ میں کثرت سے خیرات کریں۔ رمضان المبارک کے روزے رکھیں اور استطاعت ہونے پر فریضہ حج ادا کریں۔ "اے ایمان والو! اپنے عہد اور وعدوں کو ہر حال میں پورا کرو۔ ہر آزمائش میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اللہ کی دی ہوئی نعمتوں پر شکر گزار بنیں۔
خطبے کے آخر میں امامِ عالی مقام نے امت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے بھی ظلم کا راستہ چنا اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، ان سے وہ نعمتیں ہمیشہ کے لیے چھین لی گئیں اور وہ برباد ہو گئیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انسان کی دنیا اور آخرت میں نجات صرف اللہ اور بندے کے مضبوط تعلق میں ہی پنہاں ہے۔




