واشنگٹن: ایران کے ساتھ جاری جنگی مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ کی حساس صورتحال پر مشاورت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طلب کیا گیا کابینہ کا اہم ترین اجلاس اب کیمپ ڈیوڈ کے بجائے وائٹ ہاؤس میں منعقد ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر تصدیق کی ہے کہ علاقے میں خراب موسم اور طوفان کے خدشے کے باعث کیمپ ڈیوڈ کا دورہ فی الحال ملتوی کر کے اجلاس وائٹ ہاؤس منتقل کر دیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق، اس غیر معمولی اور ہائی لیول سیکیورٹی اجلاس میں ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور حالیہ امریکی فضائی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر حتمی غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں عہدے سے سبکدوش ہونے والی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس (DNI) تلسی گبارڈ، وزیرِ دفاع، وزیرِ خارجہ اور تمام کابینہ ارکان شریک ہو رہے ہیں۔ انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو ایران کی تازہ ترین دفاعی پوزیشن اور خفیہ رپورٹس پر بریفنگ دیں گی، جس کی روشنی میں واشنگٹن کی جانب سے ایران کے حوالے سے "آر یا پار” کی حکمتِ عملی طے کیے جانے کا قوی امکان ہے۔




