اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ کسی بھی جارحیت کے خلاف مشترکہ دفاع کا معاہدہ ہے اور اس کے تمام قانونی مراحل پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے قائد ایوان کی حیثیت سے مکہ معاہدے پر دستخط کیے، جبکہ یہ معاہدہ وزیراعظم، چیف آف ڈیفنس فورسز اور دفتر خارجہ کی حمایت سے طے پایا ہے۔ حکومت پاکستان کے طریقہ کار میں معاہدوں پر دستخط کے لیے باقاعدہ قانونی مراحل موجود ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کے دورے پر ہیں اور انہوں نے ایرانی قیادت سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں خطے کی صورتحال اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
باب المندب کی صورتحال پر ترجمان نے کہا کہ کمرشل جہازوں پر حملے اور بحری راستوں میں رکاوٹ قابل مذمت ہیں۔ حکومت پاکستان صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے اور عالمی قوانین کے تحت میری ٹائم سکیورٹی کی حمایت کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان سعودی قیادت میں بحری اتحاد کے معاہدے کو آپریشنل بنانے کے لیے تیار ہے۔ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ تینوں ممالک کی سکیورٹی کے لیے اہم ہے، جبکہ معاہدے میں مزید ممالک کی شمولیت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔
ایران امریکا مذاکرات کے حوالے سے ترجمان نے کہا کہ پاکستان مذاکرات کی کامیابی کے لیے پرامید ہے اور سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی گئی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہے اور پروگرام کے تین ریویو ہو چکے ہیں۔ اسلام آباد مفاہمت پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن ختم ہونے میں پانچ روز باقی ہیں۔




