اسلام آباد: ایس ڈی پی آئی کے زیرِ اہتمام مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام کسی سیاسی ایجنڈے یا تقسیم کی بات نہیں، بلکہ عوام کی فلاح و بہبود اور بہتر انتظامی نظام کے لیے ضروری ہے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ نئے صوبے بننے کی صورت میں سب سے زیادہ فائدہ بلوچستان کو ہوگا، دوسرے نمبر پر سندھ جبکہ پنجاب کو اس کا فائدہ بعد میں حاصل ہوگا۔ ملک لوگوں سے بنتا ہے اور جگہ لوگوں کے فائدے کے لیے ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے زیادہ وسائل بھی پنجاب کے حصے میں آتے ہیں۔ وسائل کی تقسیم این ایف سی ایوارڈ کے تحت ہوتی ہے، تاہم اس پر عملدرآمد کے باوجود پنجاب پر انگلی اٹھائی جاتی ہے۔
میاں عامر محمود کا کہنا تھا کہ نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی معاملات بہتر، عوام تک سہولیات کی رسائی آسان اور وسائل کی تقسیم زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاستدانوں کا احتساب اداروں کے بجائے عوام زیادہ بہتر انداز میں کرسکتے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ نئے صوبوں کی بات کسی علاقے کو تقسیم کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی ویلفیئر اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے کی جارہی ہے۔




