اسلام آباد: وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا کی صورتحال ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنتی جا رہی تھی، صوبے میں اندرونی خلفشار اور سرحد پار دراندازی کے تناظر میں ایمرجنسی کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے جلتی ہوئی آگ کو نظر انداز کیا۔ حکومت نے تمام صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد بڑی سوچ بچار سے ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیر قانون نے کہا کہ بعض دوستوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ایمرجنسی کے ذریعے منتخب حکومت کو ہٹا دیا گیا، تاہم یہ تاثر درست نہیں۔ ان کے مطابق ایک سال کے دوران دہشت گردی کے 3 ہزار 787 واقعات پیش آئے۔
اعظم نذیر تارڑ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر شہدا کو نظر انداز کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایک سیاسی جماعت کے نظریے نے دہشت گردی کو ہوا دی۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال اور ملکی سلامتی سے متعلق خدشات ایمرجنسی کے فیصلے کی بنیاد بنے۔




