پشاور: دیر کالونی اسکول میں پیش آنے والے المناک سانحے کا مقدمہ تھانہ یکہ توت میں درج کر لیا گیا۔ مقدمے میں سکول کی عمارت تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار، مالکان اور شیئر ہولڈرز کو نامزد کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر میں قتل بالسبب کی دفعہ 322 سمیت دفعات 148 اور 149 شامل کی گئی ہیں۔ مقدمے کے متن کے مطابق بچوں کی جانب سے عمارت سے متعلق شکایات کے باوجود اسکول مالکان نے مبینہ طور پر اس کی حالت پر توجہ نہیں دی۔
سانحے میں 33 بچوں اور 2 اساتذہ سمیت 35 افراد جاں بحق، جبکہ 50 سے زائد بچے زخمی ہوئے۔ جاں بحق بچوں کو غمزدہ ماحول میں آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
نمازِ جنازہ میں گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی، ایڈوائزری کونسل کے ارکان اور ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ گورنر نے جائے حادثہ کا دورہ بھی کیا اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے فی خاندان 10 لاکھ روپے، جبکہ زخمیوں کے لیے فی کس 2 لاکھ روپے مالی امداد دینے کا اعلان کیا۔




