واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ اور ممکنہ معاہدے سے متعلق اپنے سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم تہران مذاکرات میں تاخیر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کب ختم کرنی ہے اور معاہدہ کب کرنا ہے، اس کا فیصلہ امریکا کرے گا۔
ریاست ٹیکساس میں انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے ایران پر حملے کو اپنی زندگی کے بہترین فیصلوں میں سے ایک قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران پر دوبارہ حملے کی ضرورت پڑی تو امریکا کارروائی کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کے خلاف جنگ شروع نہیں کی، بلکہ ایران 1979 سے امریکا کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ انہوں نے ایران پر ہزاروں امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا الزام بھی عائد کیا۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ تیل کی قیمتیں جلد کم ہو جائیں گی۔ تاہم، جنگ کے باعث عالمی توانائی کی منڈی اور خطے کی معاشی صورتحال بدستور توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
دوسری جانب ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکا کے اخراجات 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے ہیں۔ جنگ پر بڑھتے ہوئے مالی اخراجات نے امریکی عسکری کارروائیوں کی لاگت اور ان کے معاشی اثرات سے متعلق سوالات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔




