مضامین اور کالم

پاکستان اور کرپٹو انقلاب۔۔ عالمی معیشت میں ایک نیا باب

 

تحریر:نصر اللہ ملک

ماضی میں ا نسان لین دین کے لیے بارٹر سسٹم کا استعمال کرتا تھا، وقت کے ساتھ ساتھ جب انسان ترقی کرتا گیا تو لین دین کا طریقہ کار وضع ہوا۔بارٹر سسٹم انسان کی ابتدائی معیشتی سرگرمیوں کا پہلا مرحلہ تھا۔ یہ نظام 8000 قبل مسیح سے بھی پہلے رائج تھا۔لوگ اپنی ضروریات کی اشیاء کو ایک دوسرے سے تبادلہ کرتے تھے۔مثلاً ایک کسان اپنی گندم دے کر موچی سے جوتے حاصل کرتا تھا۔تاہم اس میں قباحت یہ تھی کہ تبادلہ تب ہی ممکن ہوتا تھا جب دونوں فریق کو ایک دوسرے کی چیز میں دلچسپی ہو۔اشیاء کی نسبتاً قیمت طے کرنا مشکل ہوتا تھا۔تاریخ شاہد ہے کہ چین میں تقریباً 1000 قبل مسیح میں کانسی کے سکے بنائے گئے۔ دنیا کے سب سے پہلے سرکاری سکے لائڈیا (موجودہ ترکی) میں 600 قبل مسیح میں بنے، جو electrum (سونے چاندی کا مرکب) سے تیار ہوتے تھے۔ دنیا میں سب سے پہلے چین میں تانگ اور سونگ سلطنت کے دور میں 7ویں یا 8ویں صدی عیسوی میں کاغذی پیسہ استعمال ہوا۔ یورپ میں یہ نظام 17ویں صدی میں شروع ہوا، جب بینک نوٹ متعارف ہوئے۔
تاہم اب دنیا جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے، لین دین کے لیے ڈیجیٹل کرنسی کو متعارف کرایا جارہا ہے، اس کی مختلف شکلیں ہیں۔ ڈیجیٹل کرنسی کو سمجھنا صرف بٹ کوائن یا ایتھیریئم خریدنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک فلسفیانہ، معاشی اور تکنیکی انقلاب ہے۔ یہ ایسی کرنسی ہے جو نہ کسی بینک کی محتاج ہے، نہ کسی ریاست کی چھاپ کی، اور نہ ہی اس پر سرحدوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہ کرنسی عوام کے ہاتھوں میں طاقت دیتی ہے، بیچ میں بیٹھے اداروں کا کردار محدود کرتی ہے، اور شفافیت و خودمختاری کا نیا معیار قائم کرتی ہے۔
2025 میں پاکستان نے تاریخ رقم کی، جب صدر مملکت نے آرڈیننس کے ذریعے پاکستان ورچوئل اثاثہ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ یہ قدم محض قانون سازی نہیں، بلکہ ڈیجیٹل معیشت کی طرف پہلا عملی اور انقلابی قدم تھا۔پاکستان نے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو پلیٹ فارم ”بائنانس“ کے بانی چانگ پینگ ژاؤ کو اپنا اسٹریٹجک شراکت دار بنا کر ایک واضح پیغام دیاہم مستقبل کے ساتھ کھڑے ہیں۔’یہ پاکستان کی سفارتی کامیابی بھی ہے اور معیشت کو عالمی دھارے سے جوڑنے کی علامت بھی ہے۔ یہ اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ معیشت کے میدان میں پاکستان بھی جدت کا خواہاں ہے اور ان ممالک کے ساتھ کھڑا ہے جو ڈیجیٹل کرنسی یا کرپٹو کو استعمال کرنے کے میدان میں قدم رکھ چکے ہیں۔
کرپٹو کرنسی مرکزی کنٹرول سے آزاد ہے اور یہ کسی بینک یا حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہوتی۔یہ ایک ڈیجیٹل لیجر ہے جس میں تمام لین دین محفوظ اور شفاف طریقے سے ریکارڈ ہوتے ہیں، ہر لین دین کی تصدیق نیٹ ورک کے کئی کمپیوٹرز کرتے ہیں، جو دھوکہ دہی کو ناممکن بناتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستان کے برعکس، بھارت میں کرپٹو پالیسی کا شدید فقدان ہے۔ سپریم کورٹ کے بار بار مطالبے کے باوجود مودی سرکار خاموش ہے۔ نتیجتاً لاکھوں بھارتی نوجوان، سٹارٹ اپس اور ٹیک ماہرین ایک غیر یقینی مستقبل کا شکار ہیں۔ سخت ٹیکس، بے وضاحت قانون سازی، اور بینکنگ اداروں کی پرانی سوچ نے کرپٹو انقلاب کو روک دیا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ وہ اس خلاء کو پر کرے اور خطے میں قائدانہ کردار اپنائے۔عالمی ماہرین معیشت کے مطابق پاکستان نہ صرف ڈیجیٹل کرنسی کو قبول کر رہا ہے، بلکہ اسے سٹریٹیجک اثاثہ کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری میں ہے۔بٹ کوائن مائننگ کے لیے ملک کے شمالی علاقوں کی ہائیڈرو پاور توانائی استعمال کرنے کا منصوبہ ہے۔ کرپٹو ریزرو بنانے پر غور ہو رہا ہے تاکہ پاکستان اپنے مالی ذخائر کو متنوع بنا سکے۔
کاروبار کے حوالے سے اگر دنیا کی سمتوں کی بات کی جائے تو دنیا اس وقت دو سمتوں میں بٹی ہوئی ہے۔ایک طرف وہ قومیں ہیں جو ڈیجیٹل کرنسی کو اپنا کر آگے بڑھ رہی ہیں اور دوسری طرف وہ قومیں ہیں جو ابھی تک فرسودہ نظام کو چھوڑنا نہیں چاہتی ہیں اور ان کو ڈیجیٹل کرنسی میں قباحتیں ہی نظرآرہی ہیں۔
کرپٹو کا اپنانا وہ انقلاب ہے جس میں عوام براہ راست شریک ہو سکتے ہیں، جہاں دولت کی روانی صرف چند ہاتھوں میں نہیں بلکہ ہر فرد کی انگلیوں پر ہو سکتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف پیسہ نہیں، یہ سوچ ہے، طاقت ہے، انقلاب ہے۔ یہ تبدیلی صرف ٹیکنالوجی کی نہیں بلکہ انسان کی آزادی، خود مختاری اور خود اعتمادی کی ہے۔اگر پاکستان اس سمت میں مسلسل پیش قدمی کرتا رہا تو آنے والا وقت دور نہیں جب پاکستان نہ صرف خطے بلکہ اسلامی دنیا میں ڈیجیٹل معیشت کا علمبردار بن جائے گا۔یہ انقلاب ابھی مکمل نہیں ہوا لیکن پاکستان اس راستے پر چل نکلا ہے اور معیشت نئی راہ متعین ہوچکی ہے جو انتہائی خوش آئندہے۔ پاکستان اس کا حصہ بن چکا ہے اورنئی ٹیکنالوجی کو سب تسلیم کرکے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
پاکستان اب بٹ کوائن مائننگ کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ پاکستان کرپٹو ریزرو بنا کر مستقبل کی معیشت کی تیاری کر رہا ہے۔ بھارت کے برعکس، پاکستان کی معیشت کرپٹو کے ذریعے عالمی سطح پر ایک مضبوط آواز ثابت ہورہی ہے۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ مودی کی معاشی نااہلی نے نوجوانوں، سرمایہ کاروں اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کو مایوس کر دیا ہے۔پاکستان کرپٹو کو معیشت، سفارتکاری اور توانائی کے شعبے میں استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں بھارت بینکوں کی پرانی سوچ کا شکار جس سے معیشت کو خطرات لاحق ہیں۔
عالمی ماہرین معیشت کے مطابق کرپٹو پاکستان کو وقت کے ساتھ ساتھ معاشی لحاظ سے مضبوط کرے گا۔ کرپٹو اور بلاک چین کی مہارت رکھنے والے نوجوان عالمی مارکیٹ میں نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔کرپٹو کرنسی کو اپنانے سے پاکستان کو عالمی مالیاتی نظام میں آسانی سے شمولیت ملے گی اور سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھلیں گے۔

تعارف
سینیئر صحافی نصراللہ ملک کوحکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ امتیاز سے نوازا جاچکا ہے۔ صحافت کے دشت میں 32 برس گزارنے والے سینئر صحافی اس وقت نیو نیوز میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر خدمات سر انجام دے رہے ہیں اور "لائیو ود نصراللہ ملک” پروگرام کی میزبانی کر رہے ہیں۔انہوں نےصحافتی زندگی کا آغاز نوائے وقت سے کیا، وہ العربیہ کے علاوہ  اے آر وائی نیوز میں  بانی رکن کے طور کام کرچکے ہیں۔ "سب اچھا ہے” اور "سیاسی بساط” کی میزبانی بھی ان کے پروفائل میں شامل ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button