بین الاقوامی
Trending

مسقط میں سفارتی برف پگھلنے لگی: امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کا دور ختم، ‘اعتماد کی بحالی’ اصل چیلنج

 

مسقط : عمان کی میزبانی میں ہونے والے ایران اور امریکہ کے درمیان جوہری مذاکرات کا حالیہ دور ختم ہو گیا۔ اگرچہ اس ملاقات سے کوئی فوری بڑا بریک تھرو سامنے نہیں آیا، لیکن فریقین کا "بات چیت جاری رکھنے” پر اتفاق اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دینا چاہتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق، مسقط میں ہونے والی ان ملاقاتوں میں جوہری پروگرام کی حدود اور اقتصادی پابندیوں کے خاتمے جیسے پیچیدہ معاملات زیرِ بحث آئے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات کے بعد اپنے بیان میں دوٹوک کہا کہ ایرانی وفد نے کسی دباؤ میں آئے بغیر صرف قومی مفادات کی بنیاد پر گفتگو کی ہے۔
عباس عراقچی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ برسوں کی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی شدید کمی ہے، جو مذاکرات کی میز پر واضح طور پر محسوس کی گئی۔ ان کے مطابق یہی بداعتمادی کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے،مذاکرات کے اختتام پر جاری ہونے والے اشاروں سے واضح ہوتا ہے کہ فریقین اب اپنے دارالحکومتوں (تہران اور واشنگٹن) میں اعلیٰ قیادت سے مشاورت کریں گے۔ بات چیت کا یہ سلسلہ منقطع نہیں ہوگا بلکہ اگلے ہفتے ایک بار پھر ملاقات متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بحری بیڑے کی روانگی اور ساتھ ہی مذاکرات کی حمایت نے اس عمل کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
ایران پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے جبکہ امریکہ جوہری پروگرام پر مکمل کنٹرول۔ پیش رفت: تکرار کے بجائے مسلسل رابطے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button