ماسکو: روس میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والا پہلا ہیومینائیڈ روبوٹ AIDOL اپنی تقریبِ رونمائی کے دوران اسٹیج پر توازن کھو بیٹھا اور گر گیا۔ اس حادثے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، جن میں روبوٹ کو اسٹیج پر ہاتھ ہلاتے ہوئے اپنا توازن کھوتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، AIDOL نے اپنی دائیں بازو کو اٹھانے کی کوشش کی، تاہم وہ توازن برقرار نہ رکھ سکا اور منہ کے بل گر گیا۔ اس حادثے کے فوراً بعد اسٹیج پر موجود دو افراد نے روبوٹ کو اٹھانے میں مدد کی۔
روسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے روبوٹ کی تخلیق کرنے والی کمپنی کے سی ای او، ولادیمیر ویتوخن، نے کہا: "ہمیں امید ہے کہ یہ غلطی ہمارے لیے ایک قیمتی تجربہ ثابت ہو گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ روبوٹ میں 77 فیصد روسی ساختہ پرزے استعمال کیے گئے ہیں، اور کمپنی کا مقصد اسے 93 فیصد تک روسی پرزوں سے تیار کرنا ہے۔
AIDOL روبوٹ کو انسانوں کے ساتھ بات چیت کرنے، اشیاء کو سنبھالنے اور چلنے کی صلاحیت حاصل ہے۔ کمپنی کے مطابق، یہ روبوٹ ایسے افعال انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو انسان معمول کے طور پر انجام دیتے ہیں، اور اس میں جدید ترین مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا ہے۔




