کراچی: شہر میں ای چالان سسٹم کی تکنیکی خامی نے ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جب کوئٹہ میں رجسٹرڈ گاڑی کا چالان غلطی سے کراچی کے ایک نجی ہوٹل کے مالک کو بھیج دیا گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ’AA-540‘ نمبر پلیٹ والی یہ گاڑی تقریباً 28 سال قبل چوری ہونے والی مہران کار تھی، جبکہ چالان ایک سوزوکی آلٹو پر تیار ہوا۔ مالک کو دس ہزار روپے کا ای چالان موصول ہوا تو انکوائری میں معاملہ کھل کر سامنے آیا۔ ٹریفک پولیس نے واقعے کی باقاعدہ تصدیق بھی کر دی ہے۔
ای چالان حکام کا کہنا ہے کہ چالان جاری ہونے کے وقت سسٹم سیف سٹی اور اے وی ایل سی سے منسلک نہیں تھا، جس کی وجہ سے چوری شدہ گاڑی کی نمبر پلیٹ استعمال کرنے والوں کو ٹریس نہیں کیا جا سکا۔ حکام کے مطابق اب تمام ادارے باہمی طور پر لنک ہو چکے ہیں اور مستقبل میں ایسی غلطیاں کم ہوں گی۔
ٹریفک پولیس کے مطابق چوری شدہ نمبر پلیٹس کے استعمال کے واقعات اب بھی سامنے آنے کا امکان برقرار ہے۔
واضح رہے کہ سندھ حکومت نے گزشتہ ماہ شہر کے حساس اور اہم علاقوں میں ای چالان نظام متعارف کروایا تھا، جسے مختلف سیاسی جماعتوں نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کو آئندہ ہفتے سماعت کے لیے مقرر کیا ہے۔
شہریوں کا مؤقف ہے کہ ای چالان کی بھاری جرمانہ رقم اور خستہ حال سڑکیں عوام کے لیے دوہرا بوجھ بن چکی ہیں، جبکہ خراب سڑکوں کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار مختلف طبی مسائل کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔




