اسلام آباد ہائیکورٹ نے جسٹس طارق جہانگیری کے ڈگری اور دو رکنی بنچ کی تشکیل سے متعلق تمام اعتراضات مسترد کر دیے ہیں۔
حکمنامے کے مطابق بنچ حساس نوعیت کے معاملات کے لیے انتظامی اختیار کے تحت تشکیل دیا گیا تھا اور چیف جسٹس پر تعصب کے اعتراض کی کوئی قانونی بنیاد نہیں۔
ہائیکورٹ نے جسٹس جہانگیری کو ہدایت کی ہے کہ وہ یونیورسٹی کا مکمل جواب اور درخواست کا ریکارڈ فراہم کریں۔ اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کو فریق بنانے کی استدعا مسترد کی گئی، جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ بار اور اسلام آباد بار کونسل کو لازمی طور پر سنا جائے گا۔




