پاکستان

نقد ادائیگی کے خلاف حکومتی مہم، دہری قیمتوں کا نظام متعارف ہوسکتا ہے

وفاقی حکومت نقدی کے خلاف ’جنگ‘ کے اسٹریٹجک منصوبے کے تحت آئندہ بجٹ میں مختلف شعبوں بشمول ایندھن کی قیمتوں میں نقد اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے مختلف ٹیکس اور لین دین کی شرحیں متعارف کرانے کا امکان رکھتی ہے۔

یہ اقدام ان اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہوگا جن کا وزیر خزانہ محمد اورنگزیب حالیہ دنوں میں عندیہ دے چکے ہیں اور ممکنہ طور پر 10 جون کو بجٹ تقریر کے دوران اس کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بھی ٹیکس کی شرح میں معمولی کمی (1 سے 1.5 فیصد) کا امکان ہے، وزیر اعظم کی سخت ہدایت پر کہ حکومت کم از کم ان شعبوں میں بوجھ کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جہاں ٹیکس شرحیں غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں، چاہے وہ نمایاں کمی نہ کر سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پالیسی سازوں نے پہلے ہی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی مدد کے لیے اس اقدام کے تکنیکی اور انتظامی پہلوؤں پر کام شروع کر دیا ہے، جو گزشتہ دو دہائیوں میں متعدد کوششوں اور ماڈلز کے باوجود ریٹیل کاروبار کو مؤثر طریقے سے دستاویزی بنانے میں ناکام رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے مبینہ طور پر ایف بی آر، وزارت پیٹرولیم، بینکوں، مالیاتی اداروں اور کچھ مشاورتی کمپنیوں کے ساتھ کم از کم 3 مشاورتی اجلاس منعقد کیے ہیں تاکہ تکنیکی حل تلاش کیے جا سکیں۔

نقدی پر مبنی معیشت کے خلاف یہ مہم اوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر دہری سمتوں سے کام کرے گی تاکہ صارفین اور کاروباری اداروں کو دستاویزی لین دین کے لیے لاگت کم کرنے اور نقد ادائیگیوں پر اخراجات بڑھانے کی ترغیب اور مجبوری دی جا سکے، اس کا مقصد جہاں بھی ممکن ہو، معیشت کو بتدریج کم نقد سے مکمل غیر نقد نظام کی طرف منتقل کرنا ہے۔

ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ ملک بھر کے تمام پیٹرول پمپس بشمول چمن تا خیبر اور کراچی تا آزاد کشمیر، کو قانوناً ڈیجیٹل ادائیگی کے آپشنز فراہم کرنا ہوں گے، جن میں نقد کے ساتھ ساتھ کیو آر کوڈز، ڈیبٹ اور کریڈٹ کارڈز اور موبائل ادائیگی کی سہولتیں شامل ہوں گی۔

سرکاری طور پر مقرر کردہ پیٹرولیم قیمتیں صرف ڈیجیٹل لین دین پر لاگو ہوں گی جبکہ نقد فروخت پر فی لیٹر تقریباً 2 سے 3 روپے اضافی لاگت عائد ہوگی۔

صارفین کو نقدی کے ذریعے مہنگی ادائیگی کرنے کی آزادی حاصل ہوگی لیکن انہیں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی طرف راغب کیا جائے گا۔

اہلکار نے کہا کہ یہ ایک ریگولیٹڈ ماحول ہے اور شروع میں قابلِ عمل ہے، یہ اقدام سرحدوں اور بندرگاہوں سے ریفائنریوں اور ڈپوؤں تک پیٹرولیم کی فراہمی کو ٹریک کرنے میں بھی مدد دے گا۔

دوسری طرف، درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز کو اپنے سپلائرز یا ریٹیلرز سے ڈیجیٹل ادائیگی پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) چارج کرنا ہوگا جبکہ نقد ادائیگی پر 2 فیصد اضافی جی ایس ٹی عائد ہو گی۔

اضافی قیمت

ایک سرکار اہلکار نے بتایا کہ ’اگر تھوک فروش، تقسیم کنندگان اور ریٹیلرز زیادہ ٹیکس دینے پر آمادہ ہیں اور ان کے صارفین اضافی لاگت برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں، تو یہ ان کی اپنی مرضی ہے، لیکن اس میں خاطر خواہ مالی اخراجات شامل ہوں گے‘۔

ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لانگڑیال سے جب اس معاملے پر رائے طلب کی گئی تو انہوں نے صرف اتنا کہا کہ ’ہمیں کیش لیس معیشت کی طرف بڑھنا ہوگا‘، تاہم انہوں نے بجٹ سے قبل مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نئی حکمت عملی بظاہر بینکاری لین دین کے لیے فائلر اور نان فائلر کیٹیگری سے مشابہ لگ سکتی ہے(ایک ایسی پالیسی جو اپنے محدود دائرہ کار کی وجہ سے خاطر خواہ نتائج نہین دے سکی) تاہم نئی پالیسی کی رسائی کہیں زیادہ وسیع ہوگی، جو چھوٹے اور غیر رسمی کاروباری لین دین کو بھی ترغیب اور سختی کے امتزاج سے قابو میں لے گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button