پاکستان
Trending

آئی ایم ایف کا ‘تیل بچاؤ، معیشت بچاؤ’ فارمولا: پٹرول پر سبسڈی کا مکمل خاتمہ اور سکولوں کو آن لائن کرنے کی تجویز

 

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے درمیان ہونے والے ورچوئل مذاکرات میں ملکی معیشت کو سہارا دینے کے لیے کڑے اور غیر روایتی اقدامات پر اتفاق کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے دو ٹوک مطالبہ کیا ہے کہ حکومت پٹرول اور ڈیزل پر دی جانے والی ہر قسم کی سبسڈی فوری طور پر ختم کرے اور قیمتوں کو عالمی مارکیٹ کے مطابق ایڈجسٹ کرے۔
مذاکرات کے دوران پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کے حوالے سے اہم ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ عالمی ادارے نے حکومت کو پابند کیا ہے کہ 30 جون تک 1468 ارب روپے کا لیوی ہدف ہر صورت پورا کیا جائے، جس کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنے کے لیے آئی ایم ایف نے درآمدی ایندھن کا بل کم کرنے کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت ملک میں ورکنگ کلچر اور نظامِ تعلیم کو بدلنے کی تجاویز دی گئی ہیں۔
پہلے مرحلے میں ایندھن کی کھپت کم کرنے کے لیے اسکولوں اور کالجوں کو آن لائن کلاسز پر منتقل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں یونیورسٹیوں اور تمام سرکاری دفاتر کو ‘اسمارٹ ورکنگ ماڈل’ (Work from Home) پر منتقل کرنے کی تجویز ہے تاکہ سڑکوں پر ٹریفک کم ہو اور قیمتی زرِ مبادلہ بچایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان اقدامات کا مقصد معاشی استحکام ہے، لیکن پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور تعلیمی نظام میں تبدیلی سے عوامی سطح پر بڑے ردِعمل کا امکان ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button