تہران : مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی نے اس وقت ایک نیا رخ اختیار کر لیا جب ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (IRGC) نے اپنے کلیدی عہدیدار اور مرکزی ترجمان بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی۔ ایرانی حکام نے اس واقعے کو امریکہ اور صیہونی ریاست (اسرائیل) کی مشترکہ "دہشت گردانہ کارروائی” قرار دیا ہے۔
ایران کا کہنا ہے کہ بریگیڈیئر جنرل علی محمد نائینی کو ایک مخصوص ٹارگٹڈ حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کی منصوبہ بندی واشنگٹن اور تل ابیب کے گٹھ جوڑ سے کی گئی۔ شہید جنرل نائینی پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان کے طور پر تنظیم کے بیانیے کی تشکیل اور میڈیا وار فیئر کے ماہر مانے جاتے تھے۔ ان کی شہادت کو ایران کے دفاعی ابلاغی نظام کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیا جا رہا ہے۔پاسدارانِ انقلاب گارڈز نے اپنے بیان میں واضح کیا ہے کہ دشمن نے ایک آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن ہم اس بزدلانہ حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
دفاعی مبصرین کے مطابق، تہران میں اس ہائی پروفائل شہادت کے بعد خطے میں فوجی نقل و حرکت تیز ہو سکتی ہے اور ایران کی جانب سے "فیصلہ کن انتقام” کی کال دی جا سکتی ہے۔اس واقعے کے فوری بعد تہران میں اعلیٰ سطح کے عسکری اور سیاسی اجلاس طلب کر لیے گئے ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، پوری قوم اس وقت سوگ کی حالت میں ہے اور دشمن کی اس کارروائی کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔




